Brailvi Books

فضائلِ دعا
81 - 322
    ادب ۳۱: عدد طاق ہو کہ اللہ وِتْر ہے (یعنی اکیلا ہے)، وِتْر کو دوست رکھتا ہے (یعنی:طاق عدد کو پسند فرماتا ہے)پانچ بہتر ہے اور سات کا عدد اللہ عزوجل کو نہایت محبوب اور اَقل مرتبہ تین (سب سے کم درجہ تین کا) ہے اس سے کم نہ مانگے حدیث میں ہے:''بندہ دعا کرتا ہے پروردگار قبول نہیں فرماتا، پھر دعا کرتا ہے پھر قبول نہیں فرماتا، پھر دعا کرتا ہے اس وقت پروردگار تعالیٰ فرشتوں سے ارشاد فرماتا ہے:''اے میرے فرشتو!میرے بندے نے غیر کو چھوڑ کر میری طرف رجوع کی میں نے اس کی دعا قبول فرمائی۔''(1)

    ادب ۳۲:دعا فَہمِ معنی(معنی کو سمجھنے)کے ساتھ ہو۔ 

    قال الرضاء:  لفظ بے معنی، قالب ِبے جان ہے۔)o(یعنی بے معنی لفظ، بے جان جسم کی طرح ہے۔)

    ادب ۳۳:آنسو ٹپکنے میں کوشش کرے اگرچہ ایک ہی قطرہ ہو کہ دلیلِ اِجابت (قبولیت کی دلیل)ہے۔ رونا نہ آئے تو رونے کا سا مُنہ بنائے کہ نیکوں کی صورت بھی نیک ہے۔ 

    قال الرضاء:
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''کتاب الدعاء'' للطبراني، باب ما جاء في فضل لزوم الدعاء، الحدیث: ۲۱، ص۲۸۔

2یعنی جو کسی قوم سے مشابَہت اختیار کرے وہ انہی میں سے ہے۔

''سنن أبي داود''، کتاب اللباس، باب في لبس الشہرۃ، الحدیث:۴۰۳۱، ج۴ ، ص۶۲۔
((من تَشبّہ بقوم فھو منھم))۔(2)
    ایک نَقَّال(نقل اتارنے والا)صوفیائے کرا م کی نقلیں کرتا بعد موت بخشا گیا کہ ھمارے محبوبوں کی صورت تو بناتا تھا اگرچہ بطورہنسی کے ۔

    یہ صورت بنانا بہ نیتِ تَشَبُّہ، اللہ عزوجل کے حضور ہے نہ کہ اوروں کے دکھانے کو کہ
Flag Counter