Brailvi Books

فضائلِ دعا
80 - 322
عن عائشۃ رضي اللہ تعالی عنہا.(1))o
    ادب ۳۰: دعا میں تکرار چاہیے۔ 

    قال الرضاء:  تکرارِ سوال (یعنی بار بار مانگنا)صدقِ طلب (سچی تڑپ)پر دلیل ہے اور یہ اس کریمِ حقیقی کی شان ہے کہ تکرارِ سوال سے ملال نہیں فرماتا بلکہ نہ مانگنے پر غضب فرماتاہے:
 ((من لم یسأل اللہَ یغضبْ علیہ))۔(2)
    بخلاف بنی آدم کہ کیسا ہی کریم ہو کثرتِ سوال وشدتِ تکرار (بار بار مانگے جانے)وہجومِ سائلان(اورمانگنے والوں کی کثرت)سے کسی نہ کسی وقت دل تنگ ہوتا ہے ۔  ؎
اللہ یغضب  إن ترکت سؤالہ

وبني آدم حین یسأل یغضب (3)
    نسأل اللہ العفو والعافیۃ عدد السائلین وعدد المسائل، والحمد للہ رب العالمین۔(4) )o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 اس حدیث کو طبرانی نے ''کتاب الدعاء''، ابن عدی نے ''الکامل''، امام حکیم ترمذی نے ''نوادر'' اور بیہقی نے ''شعب الایمان'' میں اور قضاعی وابو الشیخ نے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت کیا۔

2 یعنی جو اللہ عزوجل سے اپنی حاجت طلب نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر غضب فرماتا ہے۔

(''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ما جاء في فضل الدعاء، الحدیث: ۳۳۸۴، ج۵، ص۲۴۴)۔

3            ع        غضب فرمائے اس پر جو نہ مانگے حاجتیں اپنی 

 			 بنی آدم ہے کہ اس کو غضب آتا ہے منگتا پر

4ہم اس پاک پروردگار عزوجل سے اس قدر معافی وجملہ بلیات سے عافیت طلب کرتے ہیں جس قدر حاجت مند اور ان کی حاجتیں ہیں اور سب خوبیاں اللہ عزوجل کو جو پروردگار سارے جہان والوں کا۔
Flag Counter