Brailvi Books

فضائلِ دعا
79 - 322
زور  را بگزار  وزاری  را بگیر 

رحم سوئے زار آید اے فقیر (1)
    جس قدر اِدھر سے عاجزی زیادہ اُدھر سے لطف وکرم زائد  ؎
بپائے بوس تو دست کسے رسد کہ مدام

چو  آستانہ  بدیں  در  ہمیشہ  سر دارد (2)
    خاک سے زیادہ کوئی بانیاز نہ تھا اسی واسطے آفتاب عنایت، عرش وکرسی اورفَلک ومَلَک (آسمانوں اور فرشتوں)کو چھوڑ کر اس پر چمکا ۔ 

    قال الرضاء: حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ دعا میں اِلحاح کرنے (گڑگڑانے)والوں کو دوست رکھتاہے۔(4)
    رواہ الطبراني في ''الدعاء'' وابن عدي في ''الکامل'' والإمام الترمذي في ''النوادر'' والبیھقي في ''شعب الإیمان'' والقضاعي وأبو الشیخ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1             	ع     تو چھوڑ دے تکبر ہو بھائی میر ے عاجز 

 	  	    چھائی ہے اس پہ رحمت کرتا ہے جو تواضع

2 تیری رحمت کسے نہیں پہنچتی جو تیرے در کو تھام لیتا ہے ہمیشہ سردار رہتا ہے۔

3یعنی جو زیادہ نیاز مند وخستہ حال ہو اللہ عزوجل اس پر زیادہ لطف وکرم فرماتا ہے۔

4''شعب الإیمان''، باب ما جاء في الرجاء من اللہ تعالی، الحدیث: ۱۱۰۸، ج۲، ص۳۸.

و''کتاب الدعاء'' للطبراني، باب ما جاء في فصل لزوم الدعاء، الحدیث: ۲۰، ص۲۸۔
من    کان   أضـعف             کان الربّ بہ ألطف(3)
Flag Counter