Brailvi Books

فضائلِ دعا
78 - 322
ضروری ہے اور آیہ کریمہ:
 (رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الۡاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً )(1)
اس کے مُنافِی نہیں (مخالف نہیں)کہ حسنہ دنیا سے وہ نیکیاں اور خوبیاں جو آخرت میں کام آئیں، مراد لے سکتے ہیں علاوہ بریں(باوجودیکہ)تقدیمِ دنیا باعتبار تقدُّمِ زمانی، منافی اس اعتبار کے نہیں۔(2)
    قال الرضاء:
یعنی
''فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً''
فرمایا ہے نہ کہ
''حَسَنَۃَ الدُّنْیَا''
اور حسناتِ دین، کہ مُورثِ حسنہ آخرت ہیں سب دنیا ہی میں ملتے ہیں تو کلمہ جامِعہ ہے نہ کہ صرف حسنات دُنیویہ سے خاص۔) o  (3)

    ادب ۲۹: دعا میں نہایت عاجزی واِلحاح کرے (یعنی گریہ وزاری کرے)۔ ؎
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنزالایمان: ''اے رب ھمارے! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور ہمیں آخرت میں بھلائی دے ۔ ''

(پ۲، البقرۃ: ۲۰۱)

2 جب دعا مانگے آخرت کی حاجات کو پہلے ذکر کرے کیونکہ اہم کام پہلے ذکر کیا جاتا ہے ترجمہ کریمہ میں:(فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً) کے الفاظ پہلے آئیں ہیں یہ ھماری بات کے مُخا لِف نہیں کیونکہ''حسنہ دنیا''سے وہ نیکیاں مراد لے سکتے ہیں جو آخرت میں فائدہ دیں، مزید یہ کہ زمانہ کے لحاظ سے دنیا کا پہلے ذکر کرنا ھمارے قول کے خلاف نہیں۔ اس بات کی تفصیل خود اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ قال الرضاء کہہ کر فرما رہے ہیں۔

3 یعنی نیکیاں ،آخرت کی بھلائیوں کا سبب ہیں اور یہ دنیا ہی میں ملتی ہیں لہذا یہ کلمہ ''فِي الدُّنْیَا حَسَنَۃً'' دنیا وآخرت کی بھلائیوں کو شامل ہوا نہ کہ صرف دنیوی بھلائیوں کو۔
Flag Counter