Brailvi Books

فضائلِ دعا
77 - 322
مخصوص(کسی آواز کا محتاج)
 ( اِنَّہٗ بِکُلِّ شَیۡءٍۭ بَصِیۡرٌ).
    ''اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور آہستگی کے ساتھ دعا مانگو۔'' (پ۸، الأعراف: ۵۵).
    (اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُعْتَدِیۡنَ)
    ''وہ حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔'' (پ۸، الأعراف: ۵۵).

    سیدنا امام حسن مجتبی ابن مولیٰ مرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنھما فرماتے ہیں:''آہستہ دُعاظاہر دعا سے سَتّر۷۰ مرتبہ(یعنی درجے)بہترہے۔''(2)

    صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم اکثر دعا کرتے اوران کی آواز اچھی نہ سنی جاتی، ایک صحابی نے عرض کی :
یا رسول اللہ! أقریب ربّنا فنناجیہ أم بعید فننادیہ؟
''یا رسول اللہ!ھمارا رب نزدیک ہے کہ اس سے آہستہ کہیں یا دور کہ اس کو پکاریں؟''جواب آیا:
 (اِذَا سَاَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَاِنِّیْ قَرِیْبٌ)
''جب میرے بندے تجھ سے مجھے پوچھیں تو میں نزدیک ہوں''،
(اُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ) ''
دعا مانگنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جس وقت مجھ سے دعا مانگے۔''
 (پ۲، البقرۃ: ۱۸۶) (3)
    ادب ۲۸: دعا مانگنے میں حاجتِ آخرت کو مُقدَّم رکھے کہ امرِاَہم کی تقدیم
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنز الایمان: ''بے شک وہ سب کچھ دیکھتا ہے۔'' 

(پ۲۹، الملک: ۱۹).

2 ''المصنف'' لعبد الرزاق، کتاب الجامع، باب الدعاء، الحدیث: ۱۹۸۱۵، ج۱۰، ص۵۲.

3 ''الدر المنثور''، تحت الآیۃ: (وإذا سألک۔۔۔ إلخ)، ج۱، ص۴۶۹۔
(1) )o
 (اُدْعُوۡا رَبَّکُمْ تَضَرُّعًا وَّخُفْیَۃً ؕ)
Flag Counter