| فضائلِ دعا |
مواجہ آسمان رہے (1)۔ )o
ادب ۲۶: ہاتھ کھلے رکھے، کپڑے وغیرہ سے پوشیدہ نہ ہوں۔
قال الرضاء: ہاتھ اٹھانا اور کریم کے حضور پھیلانا، اِظہارِ عجز وفقر کیلئے مشروع ہوا (عاجزی اور فقیری ظاہر کرنے کیلئے جائز ہوا)، تو ان کا چھپانا اس کے مُخِل(خلل کا باعث)ہو گا۔ جس طرح عمامے کے پیچ پر سجدہ مکروہ ہوا کہ اصل مقصود ِسجود یعنی اِظہارِ تَذلُّل (عجز واِنکساری) میں خلل انداز ہے۔ نماز میں منہ چھپانا مکروہ ہوا کہ صورتِ توجہ کے خلاف ہے اگرچہ رب عزوجل سے کچھ نِہاں (پوشیدہ)نہیں۔ھذا ما ظھر لي، واللہ تعالٰی أعلم.(2))o
ادب ۲۷: دعا نرم وپست آواز سے ہو کہ اللہ تعالیٰ سمیع وقریب ہے جس طرح چلّانے سے سنتا ہے اسی طرح آہستہ۔
قال الرضاء: بلکہ وہ اسے بھی سنتا ہے جو ہَنوز(ابھی)زبان تک اصلاً نہ آیا یعنی دلوں کا اِرادہ، نیت، خطرہ کہ جیسے اس کا علم تمام مَوجُودا ت ومَعْدُومات کو مُحِیط (گھیرے ہوئے)ہے یونہی اس کے سمع وبصر جمیع موجودات کو عام وشامل ہیں اپنی ذات وصفات اور دلوں کے اِرادات وخطرات اورتمام اَعیان واَعراضِ کائنات ہر شئے کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی نہ اس کا دیکھنا رنگ و ضَوء (رنگ وروشنی)سے خاص نہ اس کا سننا آواز کے ساتھــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1یعنی انگلیوں سمیت پوری ہتھیلی آسمان کی طرف رہے ۔ 2یہ وہ گوہر پارے ہیں جو میرے رب عزوجل نے مجھ پر ظاہر فرمائے اوراللہ عزوجل ہی سب سے زیادہ علم والا ہے۔