ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* نہیں کرتا ہوں یہ سب تیر اہی ہے لے جا وہ سب کچھ لے کر چلا گیا، الٰہی! اگر یہ کام میں نے تیری رضا کے لئے کیا ہے تو اسے ہٹا دے وہ پتھر ہٹ گیا یہ تینوں اُ س غار سے نکل کر چلے گئے۔
(''صحیح البخاري''، کتاب الإجارۃ، باب من استأجر أجیرا۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۲۷۲، ج۲ ،ص۶۷.)
امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے بھی مذکورہ قصہ کومختصراً''فتاویٰ رضویہ'' جلد۲۳کے صفحہ۵۳۹-۵۴۰پربھی بیان فرمایا ہے۔
ا؎ بعض احادیث سے مستفاد کہ طلب نعمت کی دعا ہو تو کفِ دست (ہتھیلی) سوئے آسمان کرے اورردّ ِ بَلاکی توپشتِ دست۔ مگر ''ابو داؤد'' وغیرہ کی حدیث میں ہے کہ پشت دست سے دعا نہ کرو اور بعض اوقات دعا کے وقت صرف انگشتِ شہادت سے اِشارہ بھی آیا اورامام محمد بن حنفیہ سے منقول کہ دعا چار قسم ہے:
اوّل: دعائے رغبت(یعنی کسی چیز کے حصول کی دعا)، اس میں بطنِ کف (ہتھیلی کا پیٹ) جانبِ آسمان ہو۔
دوم: دعائے رَہْبَت(یعنی کسی چیز سے بچنے کی دعا)، اس میں پشتِ دست اپنے چہرے کی طرف ہو۔
سوم: دعائے تَضَرُّع(یعنی گڑگڑانے والی دعا )، اس میں خِنصر وبِنصر (چھنگلیا اور اس کے برابر والی انگلی) بند اور وُسطی واِبہام (درمیانی انگلی اورانگوٹھا) کا حلقہ کر کے مسبّحۃ (شہادت کی انگلی) سے اشارہ کرے۔
چہارم:دعائے خفیہ کہ بندہ صرف دل سے عرض کرے، زبان نہ ہلائے ۔ واللہ تعالیٰ اعلم ۱۲ منہ قدّس سرّہ. (''البحر الرائق''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، ج۲، ص۷۷).