''الٰہی! ہم تیری طرف توسل کرتے ہیں، اپنے نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے چچا عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کہ بارانِ رحمت بھیج۔''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، الحدیث: ۳۵۸۹، ج۵، ص۳۳۶.
و''المسند'' للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۱۷۲۴۰، ج۶، ص۱۰۷۔
نوٹ: حدیث پاک میں ''یا محمد'' ہے۔ مگر اس کی جگہ ''یا رسول اللہ''کہنا چاہے کہ صحیح مذہب میں حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنا ناجائز ہے۔ علماء فرماتے ہیں:اگر روایت میں وارد ہو جب بھی تبدیل کرلیں۔ یہ مسئلہ مجدّد ِاَعظم امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ کے رسالہ: ''تجلي الیقین بأَنَّ نبینا سید المرسلین'' میں مُفَصَّل ومُشَرَّح مذکور ہے۔
(انظر للتفصیل ''الفتاوی الرضویۃ''، ج۳۰، ص۱۵۷.)
2''صحیح البخاري''، کتاب فضائل أصحاب النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، باب ذکر العباس بن عبد المطلب رضي اللہ عنہ، الحدیث: ۳۷۱۰، ج۲، ص۵۳۷۔