Brailvi Books

فضائلِ دعا
71 - 322
    اورپانچ بار ''یَا رَبَّنَا'' کہنا بھی نہایت مؤثر ِاجابت ہے (یعنی دعا کی قبولیت میں بہت اَثر رکھتا ہے)۔ قرآن مجید میں اس لفظ مبارک کو پانچ بار ذکر کر کے اس کے بعد ارشاد فرمایا:
 فَاسْتَجَابَ لَھُمْ رَبُّھُمْ)
''تو ان کی دعا قبول کی اُن کے رب نے ۔''
 (پ۴، اٰل عمران: ۱۹۵).
    امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منقول ہے: ''جو شخص عجز کے وقت پانچ بار ''یَا رَبَّنَا'' کہے، اللہ تعالیٰ اسے اس چیز سے جس کا خوف رکھتا ہے، امان بخشے اور جو چیز چاہتا ہے، عطا فرمائے پھر یہ آیتیں تلاوت کیں:
 (رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ ھٰذَا بَاطِلًا)
إلی قولہ تعالی:
(اِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیْعَادَ)
 (1) اور اَسمائے حُسنیٰ کا فضل خود پوشیدہ نہیں۔(پ۴، اٰل عمران: ۱۹۱-۱۹۴)'' (یعنی اللہ تعالیٰ کے مبارک ناموں کی فضیلت اور انکی برکت تو ظاہر ہی ہے)۔

    ادب ۲۲: اللہ تعالیٰ کے اسماء وصفات اور اس کی کتابو ں خصوصاً قرآن اور ملائکہ وانبیائے کرام بالخصوص حضور سیّد الانام
عَلَیْہِ وَعَلَیْہِمُ الصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ
اور اس کے اولیاء واصفیاء بالتخصیص (خصوصاً)حضور غوث اعظم رضی اللہ عنہم سے توسّل اور انہیں اپنے اِنجاحِ حاجات کا ذریعہ کرے (یعنی:ان تمام کواپنی حاجات کے پورا ہونے کے لیے وسیلہ بنائے)کہ محبوبانِ خدا کے وسیلے سے دعا قبول ہوتی ہے۔
    قال الرضاء: قال اللہ تعالی:
 وَابْتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الْوَسِیۡلَۃَ )
    ''اللہ تعالیٰ کی طرف وسیلہ ڈھونڈو''۔
 (پ۶، المائدۃ: ۳۵)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''روح المعاني''، پ ۳، آل عمران، تحت الآیۃ:۱۹۴، ج۲، الجزئ۴، ص۵۱۲.

     و''الجامع لأحکام القرآن'' للقرطبي، ج۲، الجزء الرابع، ۲۴۴.
Flag Counter