Brailvi Books

فضائلِ دعا
70 - 322
    ادب ۱۹:اللہ تعالیٰ کی عظیم رحمتوں کو، جو باوُجود گناہ، اس کے حال پر فرماتا رہا، یاد کر کے شرمندہ ہو۔ 

    قال الرضاء: یہ شرم باعثِ دل شکستگی ہو گی اور اللہ تعالیٰ دلِ شکستہ سے بہت قریب ہے۔ حدیثِ قُدسی میں ہے:
((أنا عند المنکسرۃ قلوبُھم لأجلي))(1)
اور نیز تصورِ رحمت جرأتِ عرض پر باعث ہو گا۔
 ((ومن فتحت لہ أبواب الدعاء فتحت لہ أبواب الإجابۃ))(2)۔
    ''جس کے لیے دعا کے دروازے کھلتے ہیں، اِجابت (قبولیت)کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں''۔ )o

    ادب ۲۰: اللہ جل جلالہٗ کی قدرتِ کاملہ اور اپنے عجز واحتیاج پر نظر کرے کہ موجبِ اِلحاح وزاری ہے(یعنی گریہ وزاری کا باعث ہے)۔

    ادب ۲۱: شروع میں اللہ عزوجل کو اس کے محبوب ناموں سے پکارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اللہ تعالیٰ نے اسم پاک''أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ''پر ایک فرشتہ مقرر فرمایا ہے کہ جو شخص اسے تین بار کہتا ہے، فرشتہ ندا کرتا ہے:مانگ کہ ''أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن'' تیری طرف متوجہ ہوا۔''(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی: میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں۔ 

(''فیض القدیر''، حرف الھمزۃ، تحت الحدیث: ۱۰۵۵، ج۱، ص۶۶۳، بألفاظ متقاربۃ)

2''المصنف'' لابن أبي شیبۃ، کتاب الدعاء، في فضل الدعاء، الحدیث: ۲، ج۷، ص۲۳، بألفاظ متقاربۃ.

3 ''المستدرک''، کتاب الدعاء والتکبیر...إلخ، باب إنّ للہ ملکاً موکلاً ... إلخ، الحدیث: ۲۰۴۰، ج۲، ص۲۳۹۔
Flag Counter