''جس کے لیے دعا کے دروازے کھلتے ہیں، اِجابت (قبولیت)کے دروازے بھی کھل جاتے ہیں''۔ )o
ادب ۲۰: اللہ جل جلالہٗ کی قدرتِ کاملہ اور اپنے عجز واحتیاج پر نظر کرے کہ موجبِ اِلحاح وزاری ہے(یعنی گریہ وزاری کا باعث ہے)۔
ادب ۲۱: شروع میں اللہ عزوجل کو اس کے محبوب ناموں سے پکارے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''اللہ تعالیٰ نے اسم پاک''أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ''پر ایک فرشتہ مقرر فرمایا ہے کہ جو شخص اسے تین بار کہتا ہے، فرشتہ ندا کرتا ہے:مانگ کہ ''أَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن'' تیری طرف متوجہ ہوا۔''(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی: میں ٹوٹے دل والوں کے پاس ہوں۔
(''فیض القدیر''، حرف الھمزۃ، تحت الحدیث: ۱۰۵۵، ج۱، ص۶۶۳، بألفاظ متقاربۃ)
2''المصنف'' لابن أبي شیبۃ، کتاب الدعاء، في فضل الدعاء، الحدیث: ۲، ج۷، ص۲۳، بألفاظ متقاربۃ.
3 ''المستدرک''، کتاب الدعاء والتکبیر...إلخ، باب إنّ للہ ملکاً موکلاً ... إلخ، الحدیث: ۲۰۴۰، ج۲، ص۲۳۹۔