((اَللّٰھُمَّ لَکَ الْحَمْدُ حَمَدًا یُّوَافِيْ نِعَمَکَ وَیُکَافِیئُ مَزِیْدَ کَرَمِکَ))(3) وغَیر ذالِک
کہ احادیث میں وارِد۔ )o
ادب ۱۷: اول وآخر نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم اور ان کے آل واصحاب پر دُرود بھیجئے کہ درود اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں مقبول ہے اور پروردگار کریم اس سے برتر کہ اول وآخر کو قبول فرمائے اور وسط (درمیان)کو رد کردے۔
امیرالمؤمنین عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث میں ہے : ''دعا زمین وآسمان کے درمیان روکی جاتی ہے جب تک تو اپنے نبی صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم پر درود نہ بھیجے بلند نہیں ہونے پاتی ''۔ (4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی میں تیری حمد وثنا ایسی نہیں کرسکا جیسی حمد وثنا تو خود اپنے لئے کرتا ہے۔
(''صحیح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب ما یقال في الرکوع والسجود، الحدیث: ۴۸۶، ص۲۵۲)
2 اے اللہ! تیرے ہی لئے حمد وستائش ہے جیسا کہ توخود فرمائے اور اس سے بہتر ہے جو ہم کہیں۔
(''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ما جاء في عقد التسبیح، الحدیث: ۳۵۳۱، ج۵، ص۳۰۹)
3 اے رب ھمارے! ساری خوبیاں تجھی کو کہ تیری نعمتوں کے بدلے اور تیرے مزید انعامات کے مقابلہ میں ہوں۔ (''الترغیب والترہیب''، الحدیث: ۲۴۳۶، ج۲، ص۲۸۸، بألفاظ متقاربۃ)
4''سنن الترمذي''، کتاب الوتر، باب ما جاء في فضل الصلاۃ علی النبي صلی اللہ تعالی علیہ وسلم، الحدیث: ۴۸۶، ج۲، ص۲۹۔