ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
*ہےکیونکہ حدیث پاک میں اس کا حکم دیا گیا ہے تو یہ تواضع خدا کیلئے ہوئی اسی طرح اللہ کے نیک بندوں سے تَوَ سُّل درحقیقت اللہ ہی سے مانگنا ہے نہ کہ غیر اللہ سے مانگنا کیونکہ قرآن و حدیث میں کئی جگہ ان بزرگوں سے تَوَ سُّل کا حکم دیا گیا ہے لہٰذا یہ حکمِ قرآنی پر عمل ہوا یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اس نکتہ کو وہابیوں اور مشرکوں نے بھلا دیا ، چنانچہ نصاریٰ تو اس قدر بڑھے کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ علی نبینا وعلیہ الصلاۃ والسلام کی شان میں اس قدر غُلُو (مبالغہ)کیا کہ انھیں اس( لَمْ یَلِدْ وَلَمْ یُوْلَدْ)کی شان والی پاک ذات کا بیٹاکہنے لگیاور ادھر وہابیوں، دیوبندیوں نے اس قدر عاجز ولاچار سمجھا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی شان میں گستاخیاں کر بیٹھے ۔
ع کرے مصطفی کی اہانتیں کُھلے بندوں اس پہ یہ جرأتیں
کہ میں کیا نہیں ہوں محمدی! ارے ہاں نہیں، ارے ہاں نہیں
(''حدائق بخشش''، ص۸۰، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
ذکر روکے فضل کاٹے نقص کا جویاں رہے
پھر کہے مَردَک کہ ہوں امت رسول اللہ کی
(''حدائق بخشش''،ص۱۱۱، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)
(مَردَک: ذلیل وگھٹیا آدمی کو کہتے ہیں )۔
محفوظ سدا رکھناشہا بے ادبوں سے
اور مجھ سے بھی سرزد نہ کبھی بے ادبی ہو
(''ارمغانِ مدینہ''، ص۶۴، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)