Brailvi Books

فضائلِ دعا
66 - 322
'' فتاوی ہندیہ''و''ملتقط'' وغیرھما میں ہے:
''اَلتَّوَاضُعُ لِغَیْرِ اللہِ حَرَامٌ''۔(1)
حالانکہ مُعظَّمانِ دین کے لیے تواضع قطعاً مَامُوْر بِہٖ ہے(یعنی دینی پیشواؤں کی تعظیم کا حکم تو یقینی طور پر دیاگیاہے)خود یہی علماء اس کا حکم دیتے ہیں۔ حدیث میں ہے:
 ((تواضعوا لمن تعلّمون منہ وتواضعوا لمن تعلّمونہ ولا تکونوا جبابرۃ العلماء))۔(2)
    ''اپنے استاد کے لیے تواضع کرو اور اپنے شاگردوں کیلئے تواضع کرو اور سرکش عالم نہ بنو۔''

    نیز حدیث شریف میں ارشاد ہوا:''جو کسی غنی کے لئے اس کے غنا کے سبب تواضع کرے،
''ذَھَبَ ثُلُثَا دِیْنِہٖ''
ا س کا دو تہائی دین جاتا رہے۔''(3)

    تو وجہ وہی ہے کہ مالِ دنیا کے لیے تواضع (عاجزی و انکساری )رُو بخدانہیں یہ حرام ہوئی اور یہی تَوَاضُع لِغَیرِ اللہہے اور علم دین کے لیے تواضع رُو بخدا ہے، اس کا حکم آیا، اور یہ عَین تَوَاضُع لِلّٰہ ہے۔ یہ نکتہ ہمیشہ یاد رکھنے کا ہے کہ اسی کو بھول کر وہابیہ ومشرکین اِفراط وتفریط میں پڑے۔(4)
والعِیاذ باللہ ربّ العالمین.)o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الکراہیۃ، الباب الثامن والعشرون، ج۵، ص۳۶۸. 

و''الدر المختار''، کتاب الحظر والإباحۃ، باب الاستبراء وغیرہ، ج۹، ص۶۳۲.

2''فیض القدیر''، الحدیث: ۳۳۸۱، ج۳، ص۳۶۰.

و''شعب الإیمان''، الحدیث: ۱۷۸۹، ج۲، ص۲۸۷.

3''شعب الإیمان''، الحدیث: ۱۰۰۴۳، ج۷، ص۲۱۳. 

4 (تو وجہ وہی ہے۔۔۔۔۔)سے مراد یہ ہے کہ جس طرح کسی معظم دینی کی تعظیم تواضع لغیر اللہ نہیں *
Flag Counter