| فضائلِ دعا |
چاہیے کہ دل وزبان کو موافق اور ظاہر وباطن کو مطابق اورجمیع ماسوائے اللہ سے رشتہ امید قطع کرے نہ نفس سے کام ، نہ خلق سے غرض رکھے ، تا شاہد ِمقصود جلوہ گر ہواورگوہر مقصد ہاتھ آئے۔(1)
قال الرضاء:نظر بغیر، جب بالذات نظر بغیر ہو نظر بغیر ہے بلکہ حقیقۃً معنی بالذات مقصود ومراد ہوں تو قطعاً شرک وکفر۔(2)
محبوبانِ ۱؎ خدا سے توسُّل، نظر بخدا ہے نہ کہ نظر بغیر۔(3)ولہٰذا خود قرآنِ عظیم نے اس کا حکم دیا، جس کا ذکر ادب ۲۲ میں آتا ہے۔ اس کی نظیر تَوَاضُع ہے(اس کی مثال بزرگوں کی تعظیم وتوقیر والا مسئلہ ہے)علمائے کرام فرماتے ہیں: غیر خدا کیلئے تَوَاضُع حرام ہے۔ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 اپنے دل و زبان اور اپنے ظاہر وباطن کو ایک سا کرے کہ جو زبان سے مانگے دل بھی اسی کی طرف متوجہ ہو اور اللہ عزوجل کے سوا سب سے امید منقطع کرکے اپنی امیدگاہ صرف اسی کی ذات کو بنائے اور مراد برآنے تک اپنی اسی کیفیت کو برقرار رکھے۔ 2غیر خدا کو مُعِین و مددگار ماننا اس طرح کہ وہی مُعِین و مددگار ہے ''نظربغیر ''کہلاتا ہے اور اگر حقیقۃً اُسی غیرِ خدا کو بِالذَّات (یعنی اللہ عزوجل کی عطا کے بغیر)حقیقی مُراد اورمقصودِ اصلی سمجھ کر اپنا مُعِین و مددگار مانے تو یہ کُھلاکفر وشرک ہے،یا یوں سمجھیں کہ اللہ عزوجل کے سوا غیروں سے مددمانگنا ''نظر بغیر''ہے، چنانچہ اگر یہ عقیدہ رکھے کہ غیر ہی بِالذَّات (یعنی اللہ کی عطا کے بغیر)اَز خوددینے والاہے تو یہ عقیدہ ،یقینی طور پرکفر وشرک ہے۔ ہاں البتہ! اللہ کے نیک بندوں سے تَوَسُّل یعنی ان کو اپنا وسیلہ بنانا یہ ''نظر بغیر''ہے ہی نہیں، جس کی تفصیل خود اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ بیان فرمارہے ہیں۔ ۱؎ فائدہ جلیلہ: استِعانت بالغیر وتوسل بہ محبوبان کا امتیاز۔ 3 اللہ عزوجل کے نیک بندوں کو اپنی حاجت روائی کیلئے وسیلہ بنانا در حقیقت اللہ تعالیٰ ہی سے مانگنا ہے نہ کہ کسی اور سے۔