| فضائلِ دعا |
اے عزیز! جب تک تو دل سے اپنی اور تمام خلق کی ہستی، خدائے تعالیٰ کی ہستی میں گم نہ کرے، رحمتِ خاصہ کہ ازل سے مخلصوں کے لیے مخصوص ہے، تیری طرف کب متوجہ ہو۔ جو شخص جبار بادشاہ کے حضور اپنی بڑائی اور عظمت کا دعویٰ کرے یابادشاہ اس کی طرف متوجہ ہو اور وہ کسی چُوبدار (نوکر)یا اہلکار کی طرف نظر رکھے سزاوارِ زَجْر ہے (یعنی ملامت کے لائق ہے)، نہ کہ مستحقِ اِنعام (یعنی اِنعام کا مستحق)۔
ایک دن حضر ت خواجہ سفیان ثوری قدّس سرّہ نماز پڑھاتے تھے ، جب اس آیت پر پہنچے(اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ)
''تجھی کو ہم پوجتے ہیں اورتجھی سے ہم مدد چاہتے ہیں''، روتے روتے بے ہوش ہوگئے، جب ہوش میں آئے، لوگوں نے حال پوچھا فرمایا:اس وقت مجھے یہ خیال آیا کہ اگر غیب سے ندا ہو:اے کاذب خموش! کیا ھماری ہی سرکار تجھے جھوٹ بولنے کے لیے رہ گئی، را ت دن رزق کی تلاش میں کُو بکُو (در بدر)پھرتا ہے اور بیماری کے وقت طبیبوں سے التجاء کرتا ہے اور ہم سے کہتا ہے:میں تجھی کو پوجتا ہوں اور تجھی سے مدد چاہتا ہوں، تو میں اس بات کا کیا جواب دوں؟(1)
اے عزیز! وہاں دل پرنظر ہے نہ کہ زبان پر ؎ما زباں را ننگریم وقال را ما رواں را بنگریم وحال را (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 ''روح البیان''، پ۱، الفاتحۃ، تحت الآیۃ: ۵، ج۱، ص۲۰۔
2 ع زبان وقال کی جانب کبھی ہوتی نہیں مائل
مری رحمت دل خستہ تمہاری ہی طرف مائل