Brailvi Books

فضائلِ دعا
63 - 322
    وقیّدنا بنیۃ الشکر؛ لأنَّ السجود بلا سبب حرام عند الشافعیّۃ ولیس بشيء عندنا إنّما ھو مباح لا لک ولا علیک کما نصّوا علیہ۔)o(1)
    ادب ۱۳،۱۴: اعضاء کو خاشع اوردل کو حاضر کرے۔(2) 

    حدیث میں ہے: ''اللہ تعالیٰ غافل دل کی دعا نہیں سنتا۔''(3)

    اے عزیز! حَیف (افسوس)ہے کہ زبان سے اس کی قدرت وکرم کا اِقرار کیجئے اور دل اوروں کی عظمت اوربڑائی سے پُر ہو۔ بنی اسرائیل نے اپنے پیغمبر سے شکایت کی کہ ھماری دعا قبول نہیں ہوتی جواب آیا: میں ان کی دعا کس طرح قبول کروں کہ وہ زبان سے دعا کرتے ہیں اور دل ان کے غیروں کی طرف متوجہ رہتے ہیں۔(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1ہم نے شکر کی نیت کے ساتھ سجدہ کو اس لئے خاص کیا کہ بغیر کسی سبب کے سجدہ کرنا شافعیوں کے نزدیک حرام اور ہم حنفیوں کے نزدیک محض مباح یعنی جائزہے، کہ اس کے کرنے یا نہ کرنے پر نہ ثواب نہ عذاب جیساکہ علمائے کرام نے اس پرنصوص بیان فرمائیں۔ 

انظر'' ردّ المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب سجود التلاوۃ، مطلب في سجود التلاوۃ، ج۲، ص۷۲۰.

و''الفتاوی الہندیۃ''، کتاب الصلاۃ، الباب الثالث عشر، ج۱، ص۱۳۶.

2 یعنی: ظاہر بدن سے عاجزی وانکساری کا اظہار ہو اور دل حاضر ہو۔

3 ''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب في جامع الدعوات۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۳۴۹۰، ج۵، ص۲۹۲۔

4''روح البیان''، پ۸، الأعراف، تحت الآیۃ: ۵۶، ج۳، ص۱۷۸.

و''الرسالۃ القشیریۃ''، باب الدعاء، ص۲۹۹.
Flag Counter