Brailvi Books

فضائلِ دعا
60 - 322
قبولیت میں بہت مؤثِّر ہے)
 (قَدِّمُوْا بَیْنَ یَدَیْ نَجْوٰکُمْ صَدَقَۃً)(1)
وُجوب اگر منسوخ ہے، تو اِستحباب ہَنوز باقی ہے۔)o(2)

    ادب ۶: جن کے حقو ق اس کے ذمہ ہوں، ادا کرے یا اُن سے معاف کرالے۔ 

    قال الرضاء:  خلق (یعنی بندوں)کے مطالبات گردن پر لے کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا ایسا ہے جیسے کوئی شخص بادشاہ کے حضور بھیک مانگنے جائے اور حالت یہ ہو کہ چار طرف سے لوگ اسے چمٹے داد وفریاد کا شور کر رہے ہیں، اسے گالی دی، اسے مارا، اس کا مال لے لیا، اسے لوٹا، غور کرے اس کا یہ حال قابلِ عطا ونَوال ہے یا لائقِ سزا ونَکال،
وحسبنا اللہ ذو الجلال۔)o(3)
    ادب ۷: کھانے پینے لباس وکسب میں حرام سے احتیاط کرے کہ حرام خوار وحرام کار (حرام کھانے والے اور حرام کام کرنے والے)کی دعا اکثر رد ہوتی ہے۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ترجمہ کنزالایمان: ''اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو۔'' (پ۲۸، المجادلۃ:۱۲)

2 آیت کریمہ میں ''قَدِّمُوْا''کے صیغہ امر کے سبب اس آیتِ کریمہ سے ثابت ہوا کہ دعا سے پہلے صدقہ کرنا واجب ہے مگر چونکہ اس آیتِ کریمہ سے ثابت شدہ حکم منسوخ ہوچکا ہے چنانچہ واجب تو نہیں البتہ اب بھی مستحب ضرورہے۔

(''التفسیر الکبیر''، المجادلۃ، تحت الآیۃ: ۱۲، الجزء التاسع والعشرون، ج۱۰، ص۴۹۵).

3 یعنی وہ شخص جو بادشاہ کے حضور حاضر ہو کر فریاد کررہا ہے اور حالت یہ ہے کہ اس نے کسی کا مال لوٹاکسی کو گالی دی ، آیا وہ انعام دیئے جانے اور مہربانی کئے جانے کا مستحق ہے یا سزا دیئے جانے کا!۔ اور اللہ تعالیٰ عظمت والا ہمیں کافی ہے۔
Flag Counter