| فضائلِ دعا |
آدابِ دعا کہ آیات واحادیثِ صحیحہ معتبرہ واِرشاداتِ علمائے کرام سے ثابت، جن کی رعایت اِن شاء اللہ تعالیٰ ضرور باعث ِاجابت (قبولیت کا سبب)ہو۔
قال الرضاء: وہ ساٹھ ۶۰ہیں۔ اِکاون۵۱ حضرت مُصَنِّف عَلاّم قُدِّسَ سِرُّہ، نے ذکر فرمائے اور نو ۹ فقیرغَفَرَ اللہُ تَعَالی لَہٗ
نے بڑھائے۔)o
ادب۱: دل کو حتی الامکان خیالاتِ غیر (دوسروں کے خیالات)سے پاک کرے۔
قال الرضاء: رب عزوجل کا خاص محلِ نظر (خاص نظرِ کرم فرمانے کی جگہ)دل ہے۔((إنّ اللہ لا ینظر إلی صورکم وأموالکم ولکن ینظر إلی قلوبکم وأعمالکم.)) o( ( 1)
ادب ۲، ۳، ۴: بدن ولباس ومکان، پاک ونظیف وطاہر ہوں۔
قال الرضاء:کہ اللہ تعالیٰ نظیف ہے، نظافت کو دوست رکھتا ہے۔ )o
ادب ۵: دعا سے پہلے کوئی عملِ صالح کرے کہ خدائے کریم کی رحمت اس کی طرف متوجہ ہو۔
قال الرضاء: صدقہ، خصوصاً پوشیدہ، اس امر میں اثر ِتمام رکھتا ہے (یعنی دعا کیــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1''بیشک اللہ تعالیٰ تمہاری صورتوں اورتمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا، البتہ وہ تمہارے دلوں اوراعمال کو دیکھتا ہے۔ '' ''صحیح مسلم''، کتاب البرّ والصلۃ والآداب، باب تحریم ظلم المسلم... إلخ، الحدیث: ۲۵۶۴، ص۱۳۸۷۔