ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی اگر مکروہ وقت نہ ہو تو دعا سے پہلے اِخلاص کے ساتھ دو رکعت نفل نماز پڑھے کہ رحمتِ الٰہی عزوجل کا سبب ہے، اور رحمت، نعمتِ الٰہی کے حصول کا باعث ہے۔
بارہ وقتوں میں نوافل پڑھنا منع ہے:
(۱) طلوع فجر سے طلوع آفتا ب تک کہ اس درمیان میں سِوا دو رکعت سنّتِ فجر کے کوئی نفل نماز جائز نہیں۔
(۲) اپنے مذہب کی جماعت کے لیے اِقامت ہوئی تو اِقامت سے ختم جماعت تک نفل و سنت پڑھنا مکروہ تحریمی ہے، البتہ اگر نماز فجر قائم ہو چکی اور جانتا ہے کہ سنت پڑھے گا جب بھی جماعت مل جائے گی اگرچہ قعدہ میں شرکت ہو گی، تو حکم ہے کہ جماعت سے الگ اور دور سنت فجر پڑھ کر شریک جماعت ہو اور جو جانتا ہے کہ سنت میں مشغول ہو گا تو جماعت جاتی رہے گی اور سنت کے خیال سے جماعت ترک کی یہ ناجائز و گناہ ہے اور باقی نمازوں میں اگرچہ جماعت ملنا معلوم ہو سنتیں پڑھنا جائز نہیں۔
(۳) نمازِ عصر سے آفتاب زرد ہونے تک نفل منع ہے ،نفل نما زشروع کرکے توڑ دی تھی اس کی قضا بھی اس وقت میں منع ہے اور پڑھ لی تو ناکافی ہے، قضا اس کے ذمہ سے ساقط نہ ہوئی۔
(۴) غروب آفتاب سے فرض مغرب تک۔مگر امام ابن الھمام نے دو رکعت خفیف کا استثنا فرمایا۔
(۵) جس وقت امام اپنی جگہ سے خطبہ جمعہ کے لیے کھڑا ہوا اس وقت سے فرض جمعہ ختم ہونے تک نماز نفل مکروہ ہے، یہاں تک کہ جمعہ کی سنتیں بھی۔ =