Brailvi Books

فضائلِ دعا
58 - 322
ولہٰذا حدیثِ صحیح(1) میں ارشاد ہوا:''جب نیند غلبہ کرے تو ذکر ونماز ملتوی کر دو، مَبادا (کہیں ایسا نہ ہو کہ)کرنا چاہو اِستغفار اور نیند میں نکل جائے کوسنا۔''(2)

    تو ثابت ہوا کہ یہاں شرط بمعنئ حقیقی نہیں، بلکہ یہ مقصود کہ ان شرائط کا اجتماع ہو تو وہ دعا بر وجہ کمال ہے اور اس میں توقعِ اِجابت کو نہایت قُوّت خصوصاً جب کہ مُحْسَنَات کو بھی جامع ہو، اور اگر شرائط سے خالی ہو تو فِيْ نَفْسِہ ٖوہ رِجائے قبول نہیں، بمحض کرم ورحمت یا توافقِ ساعتِ اِجابت، قبول ہو جانادوسری بات ہے(3)یہ فائدہ ضرور ملاحظہ رکھئے۔ اب شمارِ آداب کی طر ف چلئے۔ o)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1حدیثِ صحیح: ما اتّصل سندہ بنقل العدل الضابط عن مثلہ إلی منتہاہ من غیر شذوذ ولا علۃ.

(''تیسیر مصطلح الحدیث''، الباب الأول، الفصل الثاني، ص۳۳).

یعنی:'' وہ حدیث جس کے تمام راوی عادل اور تام الضبط ہوں ، اس کی سند ابتداء سے انتہاء تک متصل ہو نیز وہ حدیث علّتِ خفیہ قادحہ اور شذوذ سے بھی محفوظ ہو۔ ''

2 ''صحیح البخاري''، کتاب الوضوء، باب الوضوء من النوم۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۲۱۲، ج۱، ص۹۴۔ 

و''سنن الترمذي''، کتاب الصلاۃ، باب ما جاء في الصلاۃ عند النعاس، الحدیث: ۳۵۵، ج۱، ص۳۷۲۔

3  بہرحال یہ بات ثابت ہوئی کہ یہاں شرائط اپنے حقیقی معنوں میں نہیں کہ ان شرائط کے بغیر دعا قبول ہی نہ ہو ، ہاں! اتنا ضرور ہے کہ اگر یہ شرائط دعا میں جمع ہوجائیں تو دعا کامل ہے اور ا س میں قبولیت کا امکان قوی ، بالخصوص جبکہ وہ دیگر نیک امور کو بھی شامل ہو، اس کے برعکس اگر دعا شرائط و آداب سے خالی ہو تو اس کی قبولیت کی امید نہیں، ہاں البتہ کرم و رحمتِ الٰہی ہو جائے یا دعاکی قبولیت کی گھڑی ہو اور دعا قبول ہوجائے تو اور بات ہے ۔
Flag Counter