مُحْسَنَات ومُسْتَحْسَنَات.(1)
ثم أقول: یہاں کوئی ادب ایسا نہیں جسے حقیقۃً شرط کہیے، بایں معنی کہ اِجابت اس پر موقوف ہو، کہ اگر وہ نہ ہو تو اِجابت زَنہار نہ ہو۔(2) اب یہ حضورِ قلب ہی ہے جس کی نسبت خود حدیث میں ارشاد ہوا:
((واعلموا أنّ اللہ لا یستجیب دعاءً من قلب غافل لاہٍ)).(3)
''خبردار ہو! بیشک اللہ تعالیٰ دعا قبول نہیں فرماتا کسی غافل کھیلنے والے دل کی۔''
حالانکہ بار ہا سوتے میں جو محض بلا قصد زبان سے نکل جائے مقبول ہو جاتا ہے
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 جتنے بھی آداب دعا ہیں وہ سب قبولیت کا سبب ہیں اگر دعا میں ان کو جمع کرلیا جائے تو انشاء اللہ عزوجل دعا کی قبولیت کا باعث ہونگے بلکہ بعض آداب ایسے ہیں کہ جو دعا میں شرط کی حیثیت رکھتے ہیں جیسے: یکسوئی کے ساتھ دعا کرنا، سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود شریف پڑھنا اور دیگر نیک امور بجالاکردعاکرنا۔
2 بہر حال یہاں شرط اپنے حقیقی معنی میں نہیں ہے کہ اگر وہ نہ پائی جائے تو دعا ہرگز قبول ہی نہ ہو۔
3 ''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ماجاء في جامع الدعوات... إلخ، الحدیث: ۳۴۹۰، ج۵، ص۲۹۲۔
و''المستدرک''، کتاب الدعاء والتکبیر... إلخ، الحدیث: ۱۸۶۰، ج۲، ص۱۶۴.