Brailvi Books

فضائلِ دعا
55 - 322
چَہَارُم: اِتباعِ سنّت کہ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اکثر اوقات دعا مانگتے اور اوروں کو بھی تاکید فرماتے۔ (1)

پَنجُم: دفعِ بلا وحصولِ مدّعا (بَلاٹلنے اور مراد پوری ہونے)کہ بحکمِ
( اُدْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ)(2) (وَاُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ)(3)۔
    آدمی اگر بلا سے پناہ چاہتا ہے خدائے تعالیٰ پناہ دیتا ہے اور جو وہ کسی بات کی طلب کرتا ہے اپنی رحمت سے اس کو عطا فرماتا ہے یا آخرت میں ثواب بخشتا ہے۔

    سرورِ معصوم صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے روایت ہے:

    ''دعا بندے کی تین باتوں سے خالی نہیں ہوتی: 

    (ا) یا اس کا گناہ بخشا جاتا ہے 

    (۲) یا دنیا میں اسے فائدہ حاصل ہوتا ہے 

    (۳) یا اس کیلئے آخرت میں بھلائی جمع کی جاتی ہے کہ جب بندہ اپنی اُن دعاؤں کا ثواب دیکھے گا جو دنیا میں مُسْتَجاب(قبول) نہ ہوئی تھیں تمنّا کریگا:کاش! دنیا
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 کہ دعا سے آفات وبلیات دور ہوتی ہیں اور مقصود حاصل ہوتاہے ۔

2 ترجمہ کنز الایمان:''مجھ سے دعا کرو میں قبول کروں گا۔ (پ۲۴، المؤمن:۶۰)

3ترجمہ کنزالایمان:''دعا قبول کرتا ہوں پکارنے والے کی جب مجھے پکارے'' 

(پ۲، البقرۃ: ۱۸۶).
Flag Counter