Brailvi Books

فضائلِ دعا
54 - 322
اے عزیز! دعا ایک عجیب نعمت اور عمدہ دولت ہے کہ پروردگار تَقَدَّسَ وَتَعَالٰی(پاک اور بلند وبالا)نے اپنے بندوں کو کرامت فرمائی اور اُن کو تعلیم کی،حلِّ مشکلات میں اس سے زیادہ کوئی چیز مؤثر نہیں، اور دفعِ بلا وآفت میں کوئی بات اس سے بہتر نہیں۔(1) 

ایک دعا سے آدمی کو پانچ فائدے حاصل ہوتے ہیں: 

اوّل: عابدوں کے گروہ میں داخل ہوتا ہے کہ دعا فِي نَفْسِہٖ(یعنی بذاتِ خود)عبادت بلکہ سرِّ عبادت (یعنی عبادت کا مغز) ہے۔

دُوُم: وہ اِقرارِ عجز ونیاز ۱؎ داعی واعتراف بہ قدرت وکرمِ اِلٰہی پر دلالت کرتی ہے۔ 

سِوُم: امتثالِ امرِ شرع، کہ شارع نے اُس پر تاکید فرمائی، نہ مانگنے پر غضبِ اِلٰہی کی وعید آئی۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 مشکلات کو حل کرنے میں دعا سے زیادہ اثر کرنی والی اور آفات وبلیات کو ٹالنے میں دعا سے زیادہ بہترین کوئی چیز نہیں۔

۱؎  یعنی جو شخص دعا کرتا ہے وہ اپنے عجز واحتیاج کا اقرار اور اپنے پروردگار کے کرم وقدرت کا اعتراف کرتا ہے۔ ۱۲ منہ 

2 یعنی: دعا مانگنا شریعتِ مطہرہ کے حکم کی بجا آوری ہے کہ اللہ رب العزت جل وعلا نے فرمایا: (اُدْعُوْنِیْۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ) (پ۲۴، المؤمن:۶۰) ''مجھ سے دعا کرو میں قبو ل کر وں گا'' اور دعا نہ مانگنے والے کے بارے میں عذاب کی وعیدہے جیساکہ حدیثِ پاک میں آیا:'' جو مجھ سے دعا نہ کریگا میں اس پر غضب فرماؤں گا''۔
Flag Counter