اے عزیز! دعا ایک عجیب نعمت اور عمدہ دولت ہے کہ پروردگار تَقَدَّسَ وَتَعَالٰی(پاک اور بلند وبالا)نے اپنے بندوں کو کرامت فرمائی اور اُن کو تعلیم کی،حلِّ مشکلات میں اس سے زیادہ کوئی چیز مؤثر نہیں، اور دفعِ بلا وآفت میں کوئی بات اس سے بہتر نہیں۔(1)
ایک دعا سے آدمی کو پانچ فائدے حاصل ہوتے ہیں:
اوّل: عابدوں کے گروہ میں داخل ہوتا ہے کہ دعا فِي نَفْسِہٖ(یعنی بذاتِ خود)عبادت بلکہ سرِّ عبادت (یعنی عبادت کا مغز) ہے۔
دُوُم: وہ اِقرارِ عجز ونیاز ۱؎ داعی واعتراف بہ قدرت وکرمِ اِلٰہی پر دلالت کرتی ہے۔
سِوُم: امتثالِ امرِ شرع، کہ شارع نے اُس پر تاکید فرمائی، نہ مانگنے پر غضبِ اِلٰہی کی وعید آئی۔(2)