| فضائلِ دعا |
کہ بندہ اپنے مولیٰ کی معیّت سے مشرّف ہو ہزار حاجت روائیاں اس پر نثار اور لاکھ مقصد ومراد اس کے تصدُّق۔)o (1)
حدیث ۲: فرماتے ہیں صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:
''اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی چیز دعا سے بزرگ تر نہیں۔''(2)
قال الرضاء: اسے ترمذی وابن ماجہ وابن حبان وحاکم نے اُنہیں صحابی (یعنی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ)سے روایت کیا۔)o
حدیث ۳: نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اپنے رب تبارک وتعالیٰ سے نقل فرماتے ہیں:
''اے فرزند ِآدم! تو جب تک مجھ سے دعا کرتا اور میرا اُمیدوار رہے گا، میں تیرے گناہ کیسے ہی ہوں معاف فرماتا رہوں گا اور مجھے کچھ پرواہ نہیں۔''قال الرضاء: رواہ الترمذي عن أنس بن مالک رضي اللہ تعالی عنہ.) o (3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1یعنی:اللہ تعالیٰ اپنی صفتِ علم وقدرت سے تو ہر چیز کے ساتھ ہے، لیکن اُس کاوہ خاص قرب، جو دعا کرنے والے کو ملتا ہے، اتنی بڑی نعمت وسعادت ہے کہ اگر اس نعمت پر بندے کی ہزاروں مقبول دعائیں ا ورمرادیں بھی قربان ہو جائیں تو کم ہیں۔ 2''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب ماجاء في فضل الدعاء، الحدیث: ۳۳۸۱، ج۵، ص۲۴۳۔ 3اس حدیث کو امام ترمذی نے حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔ ''سنن الترمذي''، کتاب الدعوات، باب في فضل التوبۃ... إلخ، الحدیث: ۳۵۵۱، ج۵، ص۳۱۸-۳۱۹۔