Brailvi Books

فضائلِ دعا
49 - 322
''تو کیوں نہ ہوا جب آئی تھی اُن پر ھماری طرف سے سختی تو گڑگڑائے ہوتے لیکن سخت ہوگئے ہیں دل اُن کے۔''
 (پ۷، الأنعام: ۴۳)
    اِس آیت سے ترکِ دعا پر تہدید ِشدید نکلی(1).)o

    حدیث۱: رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے(2): 

    ''میں اپنے بندے کے گمان کے پاس ہوں۔'' یعنی وہ جیسا گمان مجھ سے رکھتا ہے میں اُس سے ویسا ہی کرتا ہوں،
((وَأَنَا مَعَہ، إِذَا دَعَانِيْ))
''اور میں اُس کے ساتھ ہوں جب مجھ سے دعا کرے۔''

    قال الرضاء: یہ حدیث بخاری ومسلم وترمذی ونسائی وابن ماجہ نے ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی۔(3)

    أقول: اللہ تعالیٰ کا علم وقدرت سے ساتھ ہونا تو ہر شئے کے لیے ہے، یہ خاص معیّتِ کرم ورحمت ہے، جو دعا کرنے والے کو ملتی ہے۔ اس سے زیادہ کیا دولت ونعمت ہوگی
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی اس آیت مبارکہ میں دعا کے چھوڑ دینے پرشدید خوف دلایا جارہاہے۔ 

2 حدیث قدسی: ہو ما نقل إلینا عن النبي صلّی اللہ علیہ وسلم مع إسنادہ إیّاہ إلی ربّہ عزّوجلّ.     (''تیسیر مصطلح الحدیث''، الباب الأول، الفصل الرابع، ص۱۲۶)

یعنی حدیث قدسی وہ حدیث ہے جس کے راوی حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہوں اور نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہو۔

3 ''صحیح مسلم''، کتاب الذکر والدعاء... إلخ، باب فضل الذکر والدعاء... إلخ، الحدیث: ۲۶۷۵، ص۱۴۴۲۔
Flag Counter