Brailvi Books

فضائلِ دعا
46 - 322
بلکہ مقدار میں بڑھ گئیں تو مناسب ہو اکہ انہیں رسالہ مستقلہ قرار دیجئے اور اصل کیلئے بجائے شرح وذیل سمجھ کر بنام
''ذیل المدّعاء لأحسن الوعاء''
مسمّٰی کیجئے۔(1)

    اصل رسالہ سے ان زیادات کے امتیاز کا یہ طریقہ رکھا کہ اُن کے شروع میں قال الرضاء اور آخر میں اس شکل)o کا خط ِہلالی لکھا۔

    اس مبارک رسالہ کے مطالبِ نفیسہ (عمدہ ابحاث) کا دس۱۰فصل پر اِختتام اور آخر میں ایک تذییل(ضمیمہ) اور ایک خاتمہ پر انتہائے کلام۔
والحمد للہ وليّ الإنعام والصلاۃ علی محمّد واٰلہ والسلام.(2)
    فصل اوّل: فضائل دعا میں۔

    فصل دوم: آدابِ دعا واَسبابِ اجابت میں۔

    فصل سوم:اوقاتِ اِجابت میں۔

    فصل چہارم:اَمکنہ اِجابت میں۔

    فصل پنجم :اسم اعظم وکلماتِ اِجابت میں۔

    فصل ششم:موانع اجابت میں۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1یعنی:اس تفصیل اوروضاحت کے باوجود میری یہ تحریر، والدِ محترم کے رسالے کے مقابلے میں صرف مقدارمیں بڑھی نہ کہ قدر ومنزلت میں چنانچہ یہ ایک مستقل رسالہ کی صورت اختیار کر گئی، لہٰذا اصل متن کے لئے بطور ''شرح وحاشیہ''اس کا نام ''ذیل المدعاء لأحسن الوعاء'' تجویز کیا۔

2 اور تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے جو فضل واِحسان والا، اور درود وسلام ہو نبئ رحمت اور ان کی آل

ذی شان پر، صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہ وسلم۔
Flag Counter