کی غلامی وخدمت اور حضورِ اقدس کے اعداء پر غَلظَت وشدّت کے لئے بنایا تھا بحمداللہ ان کے بازوئے ہمت وطنطنہ صولت نے اس شہر کو فتنہ مخالفین سے یکسر پاک کردیا کوئی اتنانہ رہاکہ سر اٹھائے یا آنکھ ملائے یہاں تک کہ ۲۶ شعبان ۱۲۹۳ ہجری کو مناظرہ دینی کا عام اعلان مسمی بہ بنام تاریخی''اصلاحِ ذاتِ بین''طبع کرایا اور سوا مہرِ سکوت یا عارِ فرار وغوغائے جہال وعجز واضطرار کے کچھ جواب نہ پایا، ''فتنہ شش مثل'' کا شعلہ کہ مدت سے سر بفلک کشیدہ تھا اور تمام اقطارِ ہند میں اہلِ علم اس کے اِطفا پر عرق ریز وگرویدہ، اس جناب کی ادنیٰ توجہ میں بحمداللہ سارے ہندوستان سے ایسا فِر و ہوا کہ جب سے کان ٹھنڈے ہیں، اہلِ فتنہ کا بازار سرد ہے خود اس کے نام سے جلتے ہیں مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی یہ خدمت روزِ ازل سے اس جناب کے لئے ودیعت تھی جس کی قدرے تفصیل رسالہ:
''تنبیہ الجُہَّال بإلہام الباسط المتعال''
وَذَالِکَ فَضْلُ اللہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَاءُ.
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
۱ ؎ یہ وہ دریا نہیں جو تحریر کے کوزے میں آجائے۔۱۲