Brailvi Books

فضائلِ دعا
36 - 322
بسم اللہ الرحمن الرحیم

نحمدہ ونصلي علی رسولہ الکریم
	         مختصر حالات حضرت مُصَنِّف علَّام قدس سرّہ الملک المِنْعام

         (اَزعالم شریعت، امام اہلسنّت مولاناشاہ امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن )
    وہ جناب فضائل مآب، تاج العلماء، رأس الفضلاء، حاميِ سنّت، ماحيِ بدعت، بقیّۃ السلف، حجۃ الخلف،
رَضِيَ اللہُ تَعَالَی عَنْہُ وَأَرْضَاہُ وَفِيْ أَعْلَی غُرَفِ الْجِنَانِ بَوَّأَہُ
سلخ جمادی الآخرہ یا غرہ رجب(1) ۱۲۴۶؁ھ قدسیہ کو رونق افزائے دارِ دنیا ہوئے اپنے والد ماجد حضرت مولائے اعظم، بحرِ غَطَمْطَم فضائل پناہ عارف باللہ صاحب کمالاتِ باہرہ وکراماتِ ظاہرہ حضرت مولانا مولوی محمد رضا علی خاں صاحب
رَوَّحَ اللہُ رُوْحَہ، وَنَوَّرَ ضَرِیْحَہ،
سے اکتسابِ علوم فرمایا بحمد اللہ منصب شریف علم کا پایہ ذروہ علیا کو پہنچایا
ع راست میگویم ویزداں نہ پسند وجزر است  ؎۱
کہ جو دقّتِ انظار وحدّتِ افکار وفھم ِ صائب وَرائے ثاقب حضرت حق جل وعلا نے اِنہیں عطا فرمائی ان دِیار وامصار میں اس کی نظیر نظرنہ آئی فراستِ صادقہ کی یہ حالت تھی کہ جس معاملہ میں جو کچھ فرمایا وہی ظہور میں آیا، عقلِ معاش ومعاد دونوں کا بروجہِ کمال اجتماع بہت کم سنا یہاں آنکھوں دیکھا علاوہ بریں سخاوت و شجاعت وعلوِّہمت وکرم ومروّت وصدقاتِ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یعنی جمادی الآخرہ کی آخری تاریخ یا رجب کی چاند رات۔

؎۱ سچ کہتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سچ ہی پسند فرماتا ہے۔۱۲
Flag Counter