Brailvi Books

فضائلِ دعا
312 - 322
آخر تک حضرت مُصَنِّف عَلَّام
قُدِّسَ سِرُّہُ الشَّرِیْفُ
کو احاطہ واستیعاب کا قصد نہیں، ولہٰذا فقیر نے تکثیرِ فائدہ کے لیے ہر جگہ زیادات کیں اور ان میں بہت زیادتیں خود حضر ت مُصَنِّف قُدَّسَ سِرُّہ، کے دوسرے رسائل وتالیف سے لیں، جن سے ثابت کہ حضرت ممدوح نے قصداً ہر جگہ صرف چند مختصر جملوں پر قناعت فرمائی ہے لہٰذااِس ''ذیل'' میں بھی باتباعِ ''اصل''استیعاب ملحوظ نہ رہا، خصوصاً خاتمے میں کہ یہاں تو جس قدر پیش نظر ہے اس سب کا اِیراد، حجمِ رسالہ کو دو چند سے بڑھا دیگا، لہٰذا اِسی قدر پر اقتصار ہوتا اور رب عزوجل
رَءُ وف رَحِیم کَرِیم حَیّ، قَیُّوم، عَظِیم، عَلِیم جَلَّ مَجْدُہٗسے بَتَوَسُّل حضور سیِّد المحبوبین سیِّد المرسلین سید العالمین، نبيُّ الرَّحمۃ، شیفع الأمّۃ صلی اللہ تعالٰی علیہ وعلی آلہ وأصحابہ وابنہ الأکرم الغوث الأعظم وأولیاء أمّتہ وعلماء ملّتہ أجمعین
بہ نہایت تضرع وزاری دعا ہے کہ ان دونوں رسائل'' اصل وذیل'' اور حضرت مُصَنِّف عَلَّام وفقیر مُسْتَہَام کی تمام تالیفات کو خالصاً لِوَجْہِ الْکَرِیْم قبول فرمائے اور اہل اسلام کو عاجِلاً وآجِلاً اِن سے نفع بخشے۔ (1)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1یعنی اگر صرف نماز قضائے حاجت کی تفصیل لکھنا شروع کردوں تو علیحدہ سے ایک کتاب لکھ ڈالوں تب بھی بزرگوں کے عطاکردہ نماز قضائے حاجات کے طریقے باقی رہ جائیں اوراسی طر ح میرے پیش نظروہ احادیثِ مبارکہ بھی ہیں جو خود سرکارِ دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے منقول ہیں ۔

     بہرحال اس کتاب کا پڑھنے والا اس بات کو بخوبی جان سکتا ہے کہ کتاب کی ابتداسے انتہا تک حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ،کا مقصد بھی احاطہ واستیعابِ کلام(یعنی کلام کو پھیلاکر اس کی جزئیات سمیت بیان کرنا )نہیں لہٰذا اسی بات کے پیش نظر میں نے بھی کلام کو طول نہیں دیا بس بعض جگہوں میں ضروری اضافے خود حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ ہی کی کتب و رسائل سے کیے جو اس بات پر آپ خود دلیل ہیں کہ
Flag Counter