ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
حضرت مُصَنِّف قُدِّسَ سِرُّہ نے اس کتاب کی تالیف میں اختصار کو پیش نظر رکھا۔
چنانچہ''ذیل'' میں بھی اختصار کو ہی پیش نظر رکھا اور خصوصاً یہاں ''خاتمے'' میں جس قدر اختصار پیش نظر رہا، اگر اسے بیان کیا جائے تو اس ''رسالہ'' کا حجم دُگناہوجائیگا،لہذا اسی پر اختصار کیا جاتا ہے ۔ اور میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ وہ حضور سید المرسلین پر ،آپکی آل واصحاب ،آپکے پیارے اور معزز بیٹے حضور سیدی غوث اعظم ،اور آپکی امت کے جمیع اولیائے کرام وعلمائے عظام پر درود بھیجے، اور ان کے وسیلے سے ان دونوں رسائل یعنی ''اصل''و''ذیل ''(''أحسن الوعاء'' اور''ذیل المدعاء'')اور مصنف علیہ الرحمہ اور میری تمام تالیفات وتصنیفات کو اپنی رضامیں قبول فرمائے اور تمام مسلمانوں کو ہمیشہ اس کتاب سے نفع بخشے ۔
1 بیشک وہی مددگار اور نفع پہنچانے پر قادر اور اسی کے لئے ہمیشہ کی ثنا اور اسی کی طرف ٹھکانہ ہے اے اللہ! اپنی رحمت کے وسیلے سے قبول فرمااے سب سے زیادہ رحم فرمانے والے! اور اللہ تعالیٰ درود بھیجے ھمارے آقا مولیٰ محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم اور انکی تمام آل واصحاب پر ،اے اللہ تیری پاکی اور تیری ہی حمد ہے میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں میں تجھ سے بخشش چاہتا ہوں اورتیری طرف رجوع لاتاہوں۔