Brailvi Books

فضائلِ دعا
310 - 322
حضرات مشائخ قُدِّسَتْ أَسْرَارُھُمْ میں مسمیٰ بنام تاریخی
''أزھار الأنوار من صبا صلاۃ الأسرار''
 (۱۳۰۵ھ ) لکھا۔(1)

    جسے معیار شرع مطہر پر اس نماز مقدس کی کامل عیاری اور اعتراضاتِ واہیہ منکرین کی ذلت وخواری دیکھنی ہو رسالہ اُولیٰ اور جسے اس کی تفصیلی ترکیب اور طریقہ مُرَوَّجَہ حضرات مشائخ کی ترتیب سمجھنی ہو رسالہ ثانیہ (دوسرے رسالہ)کی طرف رجوع لائے،
والحمد للہ ربّ العالمین.
    بالجملہ یہ دس۱۰ ترکیبیں ہیں جن میں اَوّل وچہارُم وپنجم ودہم تو اعلیٰ درجہ حسن وصحت ونظافتِ سند پر ہیں، ان میں سب سے اجل واعظم اوّل ہے کہ اجلّہ حُفَّاظ نے یک زبان اس کی تصحیح فرمائی پھر پنجم کہ ترمذی نے تحسین اور حاکم نے تصحیح کی، پھر چہارم کہ حسن ہے، پھر دہم کہ وہ تین ارشاداتِ مصطفی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے ہیں اور یہ ارشادِ ابن المصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم، ان کے بعد ششم وہفتم و نہم پھر سوم کا مرتبہ ہے(2)
فإنّ الضعیف یعمل
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یہ رسالہ ''فتاویٰ رضویہ'' جلد ۷، صفحہ ۶۳۳ پر ملاحظہ فرمائیں۔

2 حاصل یہ کہ نماز قضائے حاجت میں یہ دس ترکیبیں ہیں جن میں پہلی، چوتھی، پانچویں اور دسویں کی سند نہایت جید اور صحیح ہے اور ان میں بھی سب سے افضل واعلیٰ ترکیب اول ہے کہ اسکی تصحیح جلیل القدر حُفَّاظ محدثین نے فرمائی اور اس کے بعد پانچویں کہ ترمذی نے اسکی تحسین اور حاکم نے اسکی تصحیح کی، پھر چوتھی کہ حسن ہے ،پھر دسویں، کہ پہلی تین یعنی اول، چہارم اور پنجم سرکار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے فرامین ہیں اور یہ یعنی دسویں ترکیب فرمانِ غوث اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ ، اسکے بعد چھٹی، ساتویں، نویں اور پھر تیسری کا درجہ ہے۔
Flag Counter