Brailvi Books

فضائلِ دعا
31 - 322
تعالیٰ علیہ وسلم کے پیدا ہوتے ہی اپنی امت کے حق میں
((ربّ ھب لي أمّتي))(1)
فرمانے ، روزِ محشر بھی ((أنا لھا))(2) پُکارنے پھر بارگاہِ رب العزت میں سر بسجود رِہ کر اُمت کی شفاعت فرماکر بخشوانے اور احادیث مبارکہ میں بار بار ترغیب دلانے اور نہ مانگنے کی صورت میں ربِ جلیل کا نہایت سخت حکم:
 ((من لا یدعوني أغضب علیہ))
 (3)سنانے سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔

    دعاکی اہمیت بیان کرتے ہوئے اسی کتاب کی فصلِ اوّل میں رئیس المتکلمین مولانا نقی علی خان علیہ رحمۃ الرحمن اِرشاد فرماتے ہیں :

    ''اے عزیز! دعا ایک عجیب نعمت اور عمدہ دولت ہے کہ پروردگار تَقَدَّسَ وَتَعَالٰی نے اپنے بندوں کو کرامت فرمائی اور اُن کو تعلیم کی،حلِ مشکلات میں اس سے زیادہ کوئی چیز مؤثر نہیں، اور دفعِ بلا وآفت میں کوئی بات اس سے بہتر نہیں۔''

    چنانچہ دعا کے اس قدر مفید اور نفع بخش ہونے کے باوجود اس سے استفادہ اسی صورت میں ممکن ہے جبکہ اس کے شرائط و آداب بھی ملحوظِ خاطر رہیں ورنہ عین ممکن ہے کہ دعا کرنا فائدہ مند نہ ہو۔
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1'' خدایا میری امت کو میرے واسطے بخش دے۔''

(''الکلام الأوضح في تفسیر سورۃ الم نشرح''موسوم بہ'' انوار جمال مصطفی ''، ص۱۰۴، شبیر بدادرز)

2میں اس کام کیلئے ہوں یعنی تمہاری شفاعت میرے ذمہ ہے۔ 

''صحیح البخاري''، کتاب التوحید، باب کلام الرب عزوجل... إلخ، الحدیث: ۷۵۱۰، ج۴، ص۵۷۷.

3 یعنی ''جو مجھ سے دعا نہ کریگا میں اُس پر غضب فرماؤں گا۔''

(''کنز العمال''، الحدیث: ۳۱۲۴، الجزء الثاني، ج۱، ص۲۹)
Flag Counter