| فضائلِ دعا |
پیارے اسلامی بھائیو!
دُعا ،اللہ رب العزت جل وعلا سے مناجات کرنے، اس کی قربت حاصل کرنے، اس کے فضل وانعام کے مستحق ہونے اور بخشش و مغفرت کا پروانہ حاصل کرنے کا نہایت آسان اورمجرب ذریعہ ہے۔ اسی طرح دعا پیارے مصطفی کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی متوارث سنت، اللہ رب العزت جل وعلا کے پیارے بندوں کی متواترعادت، درحقیقت عبادت بلکہ مغزِ عبادت،اورگنہگار بندوں کے حق میں اللہ رب العزت جل وعلا کی طرف سے ایک بہت بڑی نعمت و سعادت ہے۔
دُعا کی اہمیت ا ور وقعت کا اندازہ خود قرآن پاک میں اللہ رب العزت جل وعلا کے ارشاد:(ادْعُوۡنِیۡۤ اَسْتَجِبْ لَکُمْ ؕ اِنَّ الَّذِیۡنَ یَسْتَکْبِرُوۡنَ عَنْ عِبَادَتِیۡ سَیَدْخُلُوۡنَ جَہَنَّمَ دَاخِرِیۡنَ )(1)
اور
( اُجِیۡبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ اِذَا دَعَانِ ۙ فَلْیَسْتَجِیۡبُوۡا لِیۡ )(2)
فرمانے، اور عالمین پر نہایت ہی رؤ ف ورحیم رسول کریم صلی اللہ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1''مجھ سے دعا مانگو میں قبول فرماؤں گا جو لوگ میری عبادت سے تکبر کرتے ہیں عنقریب جہنم میں جائیں گے ذلیل ہو کر۔''(پ۲۴، المؤمن: ۶۰)یہاں عبادت سے مُراد دُعا ہے۔
(''فضائل دعا''، ص۴۸)
2''میں دعا مانگنے والے کی دعا قبو ل کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارے۔''(پ۲، البقرۃ: ۱۸۶)
(''فضائل دعا''، ص۴۸)