''جو کسی سختی میں میری دو ہائی دے وہ سختی دور ہوجائے ۔''
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
* امام سفیان ثوری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حدیثیں روایت کی ہیں اور سب سے زیادہ ان پر جرح شعبہ نے کی ہے، جب حماد بن زید اور عباد بن عباد نے شعبہ کو ان پر جرح کرنے سے منع فرمایا تو شعبہ نے جرح ترک کر دی، لیکن بعد میں اپنے قولِ سابق سے یہ کہتے ہوئے رجوع کر لیا کہ یہ ایک دینی معاملہ ہے اور انہوں نے اس بات کی صراحت بھی کی ہے کہ اس بارے میں جو باتیں ان سے واقع ہوئی ہیں وہ ظنی اور غیر یقینی ہیں اسکے باوجود انہوں نے ان سے حدیثیں روایت بھی کی ہیں اور انکا طریقہ ہے کہ وہ صرف اس سے حدیث روایت کرتے ہیں جو انکے نزدیک قابلِ اعتماد اور ثقہ ہو اور اس تمام کلام سے میرا مقصود ابان کاساتھ دینا نہیں بلکہ اس بات کو واضح کرنا ہے کہ ابن جوزی نے اپنی عادت کے مطابق انکا ذکر بھی اپنی ''موضوعات'' میں درست طور پر نہیں کیا اور یہی بات علمائے ذی شان کے قاضی ابن حجر عسقلانی نے ''اتحاف المہرۃ بأطراف العشرۃ'' میں اس حدیث کے تحت کہی جس کو امام احمد بن ذکوان نے روایت کیا: کہ ابن حبان نے گمان کیا ہے اور ابن جوزی نے بھی اس بات پر انکی پیروی کی ہے کہ'' اس حدیث کا متن موضوع ہے''، حالانکہ جیسا ان دونوں نے کہا، بات اس طرح نہیں ہے، اور راوی اگرچہ اکثر محدثین کے نزدیک متروک ہے لیکن بعض کے نزدیک متروک نہیں بلکہ ضعیف ہے لہٰذا انکی طرف حدیث گڑھنے کی نسبت کرنا مناسب نہیں ۔