Brailvi Books

فضائلِ دعا
307 - 322
    قال الحافظ: أبان متروک.(1) 

    أقول: روی لہ أبو داود في ''سننہ'' والرجل من العباد والزُّھَّاد والصلحاء من صغار التابعین ولم ینسب لوضع، وقد قال الإمام أیوب السختیاني: ما زال نعرفہ بخیر منذ کان، وقد روی عنہ الإمام سفیان الثوري۔ وأکثر الناس تشدیداً علیہ شعبۃُ وقد کلّمہ حمادُ بن زید وعبادُ بن عباد أن یکفّ عنہ فکفّ، ثم عاد وقال: الأمر دین، وصرّح أنّ وقیعتہ فیہ عن ظنّ من غیر یقین ومع ذلک قد روی عنہ، والعھد عنہ أنّہ لا یروي إلّا عن ثقۃ عندہ۔ ولا أرید بکلّ ھذا تمشیۃ أبان بل إبانۃ أنّ أبا الفرج لم یصب في إیرادہ في ''الموضوعات'' کعادتہ وھذا حاتم أئمۃ الشأن ابن حجر العسقلاني قال في ''أطراف العشرۃ'' لحدیث رواہ أحمد بن ذکوان: زعم ابن حبان وتبعہ ابن الجوزي أنّ ھذا المتن موضوع ولیس کما قالا والراوي وإن کان متروکاً عند الأکثر ضعیفاً عند البعض فلم ینسب للوضع۔(2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 حافظ ابن حجرعسقلانی نے ابان کو متروک کہا۔

''تقریب التہذیب''، حرف الألف، من اسمہ آدم وأبان، ج۱، ص۲۴.

2میں کہتا ہوں: ابان سے امام ابو داود نے بھی ''سنن ابی داود'' میں حدیثیں روایت کی ہیں اور ابان نیک، بہت عابد وزاہد اور صغار تابعین میں سے ہیں ان پر وضعِ حدیث کا الزام لگانا مناسب نہیں ہے اور امام ایوب سختیانی فرماتے ہیں کہ ہم نے جب بھی آپ کو دیکھا ہمیشہ بھلائی اور خیر پر ہی دیکھا اور آپ سے  *
Flag Counter