Brailvi Books

فضائلِ دعا
306 - 322
عَلَیْہ اور شب کی کراہت میں اختلاف ہے، امام شمس الائمہ سرخسی نے فرمایا: رات کو آٹھ سے زیادہ بھی مکروہ نہیں۔(1)''فتاویٰ خلاصہ'' میں اسی کو صحیح کہا(2)
وعامتھم علی الکراھۃ وصحّحھا في ''البدائع''۔(3)
    تو یہ نماز اگر ہو، شب  ۱؎  میں ہو کہ ایک تصحیح پر کراہت سے محفوظ رہے۔ 

    ترکیب نہم (۹): حافظ ابوالفرج ابن الجوزی بطریق ابان بن ابی عیاش انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جسے اللہ تعالیٰ سے کوئی حاجت دنیا یا آخرت کی ہو وہ پہلے کچھ صدقہ دے، پھر بدھ، جمعرات وجمعہ کا روزہ رکھے، پھر جمعہ کو مسجد جامع میں جاکر بارہ رکعتیں پڑھے، دس رکعتوں میں الحمد ایک بار، آیۃ الکرسی دس بار اور دو میں الحمد ایک بار
قُلْ ھُوَ اللہُ
پچاس بار، پھر اللہ تعالیٰ سے اپنی حاجت مانگے تو کوئی حاجت ہو دنیا خواہ آخرت کی اللہ تعالیٰ پوری فرمائے۔''(4)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 ''المبسوط''، کتاب الصلاۃ، باب مواقیت الصلاۃ، ج۱، ص۳۱۲. 

2 ''خلاصۃ الفتاوی''، کتاب الصلاۃ، الفصل الثانی، الجنس في السنن، ج۱، ص۶۱.

3 زیادہ تر فقہائے کرام کا مؤقف کراہت کا ہے اور اسی کو صاحبِ''بدائع الصنائع'' نے صحیح قرار دیا ہے۔

''بدائع الصنائع''، کتاب الصلاۃ، بیان ما یکرہ من التطوع، ج۲، ص۱۴.

۱؎ الحمد للہ کہ روایت ابن عساکر نے اس رائے فقیر کی تائید فرمائی کہ اس میں بعد مغرب کی تصریح آئی کما علمتَ(جیساکہ آپ جان چکے)۔ ۱۲ مُدَّ ظِلُّہ، 

4 ''الموضوعات'' لابن الجوزي، صلوات تفعل لأغراض، صلاۃ لقضاء الحوائج، ج۲، ص۱۴۱.
Flag Counter