Brailvi Books

فضائلِ دعا
305 - 322
دُوُم دونوں بشدَّت ضعیف ہیں کہ اس بات میں ہرگز قابل استناد نہیں ہوسکتیں، تو ان ترکیبوں سے یہ لفظ کم کر دینا ضرور ہے۔ 

    ثمّ أقول: سجدے بلکہ قعدے بلکہ قیام کے سوا نماز کے کسی فعل میں قرآن عظیم کی تلاوت، حدیث وفقہ دونوں سے منع ہے، (1)یہاں تک کہ سہواً پڑھے تو سجدہ لازم اورعمداً پڑھے تو اعادہ واجب،تو ضرور ہے کہ فاتحہ ، آیۃ الکرسی جو سجدے میں پڑھی جائیں گی ان سے ثنائے الٰہی کی نیت کرے ، نہ(کہ)قرآن عظیم کی، نیز واضح رہے کہ نوافل مُطْلَقَہ میں ہر دورکعت نماز جداگانہ ہے تو جتنی رکعات ایک نیت سے پڑھی جائیں ہر قعدے میں التحیات کے بعد دُرُود وَدعا سب کچھ ہواور ہر تیسری کے آغاز میں:
سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ و أَعُوْذُ
 (ثناء وتعوذ)بھی ہو۔(2)
    ثمّ أقول:
ھمارے ائمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے نزدیک ایک نیت میں دن کو چار رکعت سے زیادہ مکروہ ہے اور رات کو آٹھ۸ سے زائد
وظاہر إطلاق الکراھۃ کراھۃ التحریم وقد نصّ في ''ردّ المحتار'' علی أنّہ لا یحلّ فِعلہ(3)
مگر دن کی کراہت مُتَّفَقْ
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1''صحیح مسلم''، کتاب الصلاۃ، باب النہي عن قراء ۃ القرآن فيالرکوع والسجود، الحدیث: ۴۸۰، ص۲۴۹.

و''بدائع الصنائع''، کتاب الصلاۃ، بیان ما یستحبّ وما یکرہ في الصلاۃ، ج۱، ص۵۱۱.

2 ''الدر المختار''، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۵۵۲.

3ظاہر یہ ہے کہ مطلقاً کراہت سے مراد مکروہ تحریمی ہے اور''ردالمحتار'' میں اس بات پر نص وارد ہے کہ ایسا کرنا جائز نہیں۔

''ردّ المحتار''، کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، مطلب في لفظۃ ثمان، ج۲، ص ۵۵۱.
Flag Counter