| فضائلِ دعا |
چلا اور وسوسہ تھا کہ شاید خبرِ نوعِ دِگر سننے میں آئے (یعنی:شاید مریض کے انتقال کی خبر سننے کو ملے مگر)وہاں گیا تو بحمد اللہ تعالیٰ مریض کو بیٹھا باتیں کرتا پاتا، مرض جاتا رہا، چند روز میں قوت بھی آگئی۔ وَلِلّٰہِ الْحَمْدُ۔
فائدہ: یہ حدیث ابن عَساکرنے بروایت حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کی(1) ، مگر اتنا فرق ہے کہ اُس میں اس نماز کا وقت بعد مغرب معیّن کیا اور فاتحہ وآیَۃُ الْکُرْسِي وکلمہ مذکورہ پڑھنے کے لئے بارہویں رکعت کا پہلا سجدہ اور دعا:اللّٰھُمَّ إنِّي أَسْأَلُکَ
پڑھنے کو اس کا دوسرا سجدہ رکھا، نہ یہ کہ بعد التحیات کے سلام سے پہلے ایک سجدہ جداگانہ میں پڑھی جائیں۔
وَاللہُ سُبْحَانَہ، وَتَعَالٰی أَعْلَمُ۔
أقول:مگر ھمارے جمہور ائمہ لفظ:
أَسْأَلُکَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ
کو منع فرماتے ہیں۔ ''ہدایہ'' و''وقایہ ''و''تنویر الابصار'' و''درِّ مختار'' و''شرح جامع صغیر'' امام قاضی خان وتمرتاشی ومحبوبی وغیرہا کتبِ فِقہِیَّہ میں اس کی ممانعت مُصَرَّح (یعنی:مذکورہ کتب میں اسکی صاف ممانعت وارد ہے)(2) علامہ ابن امیر الحاج نے ''حلیہ''(3)میں تصریح فرمائی کہ یوں کہنا مکروہ تحریمی یعنی: قریب بحرامِ قطعی ہے اور یہ حدیث اور اسی طرح حدیثِ ترکیب
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''ابن عساکر''، ج۳۶، ص۴۷۱. 2 ''الہدایۃ''، کتاب الکراہیۃ، مسائل متفرقۃ، ج۲، الجزء۴، ص۳۸۰. و''تنویر الأبصار'' و''الدر المختار''، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹، ص۶۵۱. و''ردّ المحتار''، کتاب الحظر والإباحۃ، فصل في البیع، ج۹، ص۶۵۱-۶۵۲. 3 ـ''الحلبۃ''، الفصل الثالث عشر في صلاۃ الحاجۃ، ج۲، ص ۵۷۶.