| فضائلِ دعا |
ترکیب ہشتم(۸): حاکم، حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ''رات یا دن میں بارہ رکعتیں، ہر دو رکعت پر التحیات پڑھ، پچھلی التَّحیات کے بعد(یعنی بارہویں رکعت کے قعدے میں التحیات پڑھنے کے بعد)اللہ تعالیٰ کی ثناء اور نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود بجا لاؤ، پھر سجدے میں فاتحہ سات بار، آیۃ الکرسی سات بار:
لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ، لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْرٌ
دس بار پڑھ، پھر کہہ:
اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ بِمَعَاقِدِ الْعِزِّ مِنْ عَرْشِکَ وَمُنْتَھَی الرَّحْمَۃِ مِنْ کِتَابِکَ وَاسْمِکَ الْأَعْظَمِ وَجَدِّکَ الْأَعْلٰی وَکَلِمَاتِکَ التَّآمَّۃِ (1)
پھر اپنی حاجت مانگ، پھر سر اٹھا کر دائیں بائیں سلام پھیر اور اسے بیوقوفوں کو نہ سکھاؤ کہ وہ اس کے ذریعے سے دعا مانگیں گے تو قبول ہو گی۔
احمد بن حرب وابراہیم بن علی وابو ذکریا وحاکم نے کہا: ہم نے اس کا تجربہ کیا تو حق پایا۔(2)
فقیر کہتا ہےغفر اللہ تعالٰی لہ:
فقیر نے بھی چند بار تجربہ کیا، تیرِ بے خطا پایا، یہاں تک کہ بعض اَعزّہ کے مرض کو امتدادِ شدید واِشتدادِ مدید ہوا (یعنی وہ عرصہ دراز سے شدید بیمار تھے)حتی کہ ایک روز بالکل نزع کے آثار طاری ہوگئے، سب اقارب رونے لگے، فقیر اُن سب کو روتا چھوڑ کر دروازہ کریم پر حاضر ہوا، یہ نماز پڑھی اس کے بعد مریض کی طرف
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 اے اللہ عزوجل! میں تجھ سے تیرے عرش کی دائمی عزت کے وسیلے ، تیری کتاب کی انتہائی رحمت کے وسیلے سے، تیرے اسمِ اعظم، تیری اعلیٰ بزرگی اور تیرے مکمل کلمات کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں۔ 2 ''الترغیب والترھیب''، کتاب النوافل، الترغیب في صلاۃ الحاجۃ ودعاءہا، الحدیث: ۴، ج۱، ص۲۷۴.