| فضائلِ دعا |
کرے یعنی: بمراعاتِ سنن وآداب (یعنی: سنن وآدابِ وضو کو ملحوظ رکھے)، پھر دو رکعتیں پورے طور پر پڑھے یعنی:باستجماعِ سُنَن ومُسْتَحَبَّات وحضورِ قلب (یعنی:سنن ومستحبات کی رعایت کرتے ہوئے خشوع اور خضوع کے ساتھ نماز پڑھے)پھر جو کچھ اللہ تعالیٰ سے مانگے، عَاجِل یا آجِل، اللہ تعالیٰ اسے عطا فرمائے۔(1)
امام حافظ ابن حجر عسقلانی پھر امام جلال الدین سیوطی فرماتے ہیں: ''اس کی سند حسن ہے۔'' (2)
أقول: لفظ حدیث میں یوں ہے:((أعطاہ اللہ ما سأل معجَّلاً أو مؤخَّراً))
اور اس کے دو۲ معنی محتمل:
ایک یہ کہ دنیا وآخرت کی جو چیز اللہ تعالیٰ سے مانگے اللہ عزوجل عطا فرمائے۔
دوسرے یہ کہ جو کچھ مانگے اللہ تعالیٰ عطا کرے، جلد یا دیر میں لہٰذا فقیر نے ترجمہ بھی ایسے لفظوں سے کیا جو دونوں معنوں کومحمّل رہیں۔
ترکیب پنجم(۵): ترمذی ونسائی وابن خزیمہ وابن حبان وحاکم، حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ انکی والدہ اُم سُلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا ایک دن صبح کو خدمتِ اقدس حضور سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم میں حاضر ہوئیں اور عرض کی: حضور! مجھے کچھ ایسے کلمات تعلیم فرما دیں کہ میں اپنی نماز میں کہا کروں، ارشاد فرمایا: دس بار اَللہُ أَکْبَرُ، دس بار سُبْحَانَ اللہِ،ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''المسند''، للإمام أحمد، مسند القبائل، حدیث أبي الدرداء عویمر، الحدیث: ۲۷۵۶۷، ج۱۰، ص۴۱۹. 2 ''اللآلي المصنوعۃ'' للسیوطي، کتاب الصلاۃ، ج۲، ص۴۱.