(میری یہ حاجت بر آئے) اور اس حاجت کا ذکر کرے، اللہ تعالیٰ رَوَا فرمائے۔(1)
وہب کہتے ہیں: ہمیں پہنچا ہے کہ یہ ترکیب اپنے بیوقوفوں اور اَبلہوں (یعنی:نادانوں)کو نہ سکھاؤ کہ گناہوں پر دلیری نہ کریں۔(2)
ترکیب سوُم(۳): عبد الرزاق نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنھما سے روایت کی:نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ''جو شخص خدا سے کچھ حاجت رکھتا ہو تنہا مکان میں باوضو ئے کامل چار رکعت پڑھے، پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد(قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ)
(پوری سورہ اخلاص)دس بار، دوسری میں بیس بار، تیسری میں تیس، چوتھی میں چا لیس بار پڑھے پھر پچاس بار
(قُلْ ھُوَ اللہُ اَحَدٌ)
اورستَّر مرتبہ لَا حَوْلَ پڑھے، اگر اس پر قرض ہو ادا ہو جائے اور جو وطن سے دور ہو خدا تعالیٰ اسے گھر پہنچائے اور جو آسمان کے برابر گناہ رکھتا ہو، اور استغفار کرے خدا اس کے گناہ بخشے اور جو اولاد نہ رکھتا ہو، خدا اسے اولاد دے اور جو دعا کرے خدا اُس کی دعا قبول فرمائے، اور جو خدا سے دعا نہیں کرتا، خدا اس سے ناراض ہوتا ہے۔''
عبد اللہ فرماتے ہیں: اپنے احمقوں کو یہ دعا نہ سکھاؤ کہ اس سے نافرمانی پر استعانت کریں گے۔
قال الرضاء:ترکیب چہارم(۴): امام احمد اپنی ''مسند'' میں ابو درداء رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے راوی: میں نے حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: جو وضو کامل طور پرــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 ''إحیاء العلوم''، کتاب أسرار الصلاۃ ومھماتھا، ج۱، ص۲۷۸، بحذف ألفاظ قلیل. 2 ''إحیاء العلوم''، کتاب أسرار الصلاۃ ومھماتھا، ج۱، ص۲۷۸.