اور آمین پر ختم اور شروع میں اللہ تعالیٰ کو اسمائے طیبہ سے ندا وغیر ذالک جو آدابِ دعا گزرے، ضرور بجالائے اور یونہی تمام ترکیبات میں سمجھے، دابِ عام ہے (یعنی:عام طریقہ ہے)کہ جن امور کی تفصیل اور کسی امرِعام میں مطلقاً ان کی حاجت دوسری جگہ سے معلوم ہو ، خاص معیَّن میں ان کے ذکر کی حاجت نہیں سمجھی جاتی(2)۔)o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 امام اہلسنّت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے رسالہ:''تَجَلِّي الْیَقِیْنِ بِأَنَّ نَبِیَّنَا سَیِّدُ الْمُرْسَلِیْنِ'' میں حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو ''یا محمد'' پکارنے کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں: ''علماء تصریح فرماتے ہیں:حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو نام لے کر ندا کرنی حرام ہے، اور واقعی محلِ انصاف ہے جسے اسکا مالک ومولیٰ تبارک وتعالیٰ نام لے کر نہ پکارے غلام کی کیا مجال کہ راہِ ادب سے تجاوز کرے بلکہ امام زین الدین مراغی وغیرہ محققین نے فرمایا: اگر یہ لفظ کسی دعا میں وارد ہو جو خود نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے تعلیم فرمائی جیسے:دعائے ((یَا مُحَمَّدُ إِنِّيْ تَوَجَّھْتُ بِکَ إِلٰی رَبِّيْ)) تاہم اسکی جگہ''یَا رَسُوْلَ اللہِ''، ''یَانَبِیَّ اللہِ'' چاہے، حالانکہ الفاظِ دعا میں حتی الوُسْع تغییر نہیں کی جاتی۔'' (''فتاوی رضویہ''، ج۳۰، ص۱۵۷)
2 یعنی عام طور پر یہ طریقہ ہے کہ جب کسی عام معاملہ میں اسکے متعلقہ امور کی تفصیلات کو مطلقاً بیان کیا گیا ہو توکسی خاص معاملہ میں ان تفصیلات کو دوبارہ ذکر کرنے کی حاجت نہیں رہتی۔