((اَللّٰھُمَّ إِنِّيْ أَسْأَلُکَ وَأَتَوَجَّہُ إِلَیْکَ بِنَبِیِّنَا مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَبِيِّ الرَّحْمَۃِ، یَا رَسُوْلَ اللہِ! إِنِّيْ أَتَوَجَّہُ بِکَ إِلٰی رَبِّيْ فَیَقْضِيْ حَاجَتِيْ))(1)
اور اپنی حاجت ذکر کرے، یہ دعا صحیح حدیث میں تعلیم فرمائی۔
قال الرضاء: ایک نابینا خدمت اقدس حضور سید عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم میں حاضر ہو کر اپنی نابینائی کا شاکی ہوا، حضور نے یہ نماز ودعا ارشاد فرمائی، انہوں نے مسجد میں جاکر پڑھی، کچھ دیر نہ گزری تھی کہ دونوں آنکھیں کھل گئیں گویا کبھی اندھے نہ تھے۔
یہ حدیث ترمذی ونسائی وابن ماجہ وابن خزیمہ وطبرانی وحاکم وبیہقی نے روایت کی، امام ترمذی فرماتے ہیں:یہ حدیث حسن صحیح غریب ہے،حاکم نے کہا :بخاری ومسلم دونوں کی شرطوں پر صحیح ہے،امام ابوالقاسم طبرانی، پھرامام بیہقی، پھر امام منذری وغیرہم ائمہ نے فرمایا: صحیح ہے ۔(2)ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1 الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتا اورتیری طرف توجہ کرتاہوں ھمارے نبی محمد صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وسیلے سے جو مہربانی والے نبی ہیں، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! میں آپ کے وسیلے سے اپنے رب کی طرف توجہ کرتا ہوں کہ میری حاجت بر آئے۔ 2 ''سنن الترمذي''، باب في انتظار الفرج وغیر ذلک، الحدیث: ۳۵۸۹، ج۵، ص۳۳۶، بألفاظ متقاربۃ. و''المستدرک'' للحاکم، کتاب الدعاء۔۔۔ إلخ، باب دعاء ردّ البصر، الحدیث: ۱۹۵۲، ج۲، ص۲۰۳، بألفاظ متقاربۃ.