Brailvi Books

فضائلِ دعا
294 - 322
    مریدوں سے شیخ کی فرمائش اسی اصل کے نیچے آسکتی ہے۔ جبکہ انبساط متحقق ہو اور حالت عدمِ بار پر ناطق۔(1) ورنہ سوال سے بدتر ہے کہ سائل مجبور نہیں کر سکتا اور یہاں آدمی لحاظ کے باعث مجبور ہو جاتا ہے، بحال ناگواری جو کچھ لیا، وہ سوال ہی نہیں بلکہ ظلم وغصب ومُصَادَرہ (ڈنڈو تاوان)ہے۔ یہ دقیقہ وَاجِبُ اللِّحَاظ ہے(اس نکتہ کا لحاظ بہت ضروری ہے)کہ بہت متصوفہ زمانہ (اس زمانے کے نام نہاد صوفی)اس میں مبتلا ہیں، انہیں اس کا لحاظ فرض ہے اور مریدین کو لازم کہ اپنا مال وجان سب اپنے پیر کی مِلک سمجھیں، پیر کہ شرائطِ پیری کا جامع ہو، نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے اور ائمہ دین فرماتے ہیں:جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مِلک نہ جانے، حلاوتِ سنّت اس کے مذاقِ جان تک نہ پہنچے (یعنی:وہ سنت کی لذت سے محروم رہے گا)۔
قالہ الإمام سھل التُّسْتَرِيُّ نقلہ الإمام القسطلاني في ''المواھب'' وغیرہ۔(2)
    صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی:
ھل أنا ومالي إلّا لک یا رسول اللہ!
''میں اور میرا مال حضور کے سوا کس کے ہیں؟ یا رسول اللہ ''۔(3)
واللہ سبحنہ وتعالٰی أعلم۔)o
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 شیخ کا اپنے مریدوں سے کوئی چیز مانگنا جبکہ مرید اور شیخ کے درمیان انبساط پایاجائے اور مرید کی حالت یہ بتارہی ہو کہ اس پر بوجھ نہیں ۔

2امام سہل بن عبد اللہ تستری نے یہ بات کہی ہے اور امام احمد قسطلانی نے ''اَلْمَوَاہِبُ اللَّدُنِیَّہ''وغیرہ میں اس بات کو نقل فرمایا ہے۔

''المواھب اللدنیۃ''، المقصد السابع، الفصل الأول، ج۲، ص ۴۹۴.

3 ''سنن ابن ماجہ''، باب في فضائل أصحاب رسول اللہ، الحدیث: ۹۴، ج۱، ص۷۲.
Flag Counter