مریدوں سے شیخ کی فرمائش اسی اصل کے نیچے آسکتی ہے۔ جبکہ انبساط متحقق ہو اور حالت عدمِ بار پر ناطق۔(1) ورنہ سوال سے بدتر ہے کہ سائل مجبور نہیں کر سکتا اور یہاں آدمی لحاظ کے باعث مجبور ہو جاتا ہے، بحال ناگواری جو کچھ لیا، وہ سوال ہی نہیں بلکہ ظلم وغصب ومُصَادَرہ (ڈنڈو تاوان)ہے۔ یہ دقیقہ وَاجِبُ اللِّحَاظ ہے(اس نکتہ کا لحاظ بہت ضروری ہے)کہ بہت متصوفہ زمانہ (اس زمانے کے نام نہاد صوفی)اس میں مبتلا ہیں، انہیں اس کا لحاظ فرض ہے اور مریدین کو لازم کہ اپنا مال وجان سب اپنے پیر کی مِلک سمجھیں، پیر کہ شرائطِ پیری کا جامع ہو، نائب رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم ہے اور ائمہ دین فرماتے ہیں:جو اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی مِلک نہ جانے، حلاوتِ سنّت اس کے مذاقِ جان تک نہ پہنچے (یعنی:وہ سنت کی لذت سے محروم رہے گا)۔