| فضائلِ دعا |
پھر یہ بھی وہاں ہے جہاں مانگنا سوال ہو، محلِّ انبساطِ تام(یعنی ایسی جگہ جہاں کے رہنے والوں میں آپس میں بے تکلفی ہو)میں کہ باہم اتحاد ہو ایک دوسرے کے مال میں ایسی مُغایَرت (یعنی ایسا امتیاز)نہ ہو کہ مانگنے کو ذلت وننگ وعار یا مانگنا سمجھیں(1)جیسے:ماں، باپ، اولاد، زوج وزوجہ کہ اسی عدم مغایرت کے باعث اِنہیں دینے سے شرعاً زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی کہ یہ دینا نہ ہوا بلکہ گویا اپنے صندوقچے کے ایک خانے سے نکال کر دوسرے میں رکھ دینا۔ تو وہاں متعارفِ انبساط کا عملدرآمد اصلاً سوال نُہِيَ عَنْہُ میں داخل نہیں(2)بلکہ حدیث شریف میں وارد ہے اور فقہ بھی اس کے جواز پر شاہد ہے۔ ''فتاویٰ ہندیہ''میں ''ملتقط'' سے ہے:
عن الثوري رحمہ اللہ تعالٰی: أنّہ سئل عن الاستمداد من خبز غیرہ قال: ھو مال غیرہ فلیستأذنہ ولا أحبّ لہ أن یفعل من غیر استئذان ولا إشارۃ ومھما أمکن لا یستأذن؛ لأنّہ سؤال إلّا أن یکون بینھما انبساط۔(3)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ 1یعنی دو شخصوں کے مابین ایسے خوشگوار تعلقات اور بے تکلفی ہوکہ ایک دوسرے سے کوئی چیز مانگنے کو اپنی ذلت وبے عزتی تصور نہ کریں ۔ 2یعنی گھر کے افراد مثلاً ماں باپ بیوی وغیرہ سے مانگنا اس سوال میں داخل نہیں جس کی شرع میں ممانعت وارد ہوئی ۔ 3 ''سفیان ثوری سے کسی نے دوسرے کی روٹی سے نفع اٹھانے کے متعلق سوال کیا تو آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے ارشاد فرمایا کہ وہ تو دوسرے کا مال ہے اس سے اجازت لینی چاہیے اور کوئی شخص کسی سے صراحۃً، اشارۃً یا جہاں جہاں خدشہ ہو کہ یہ اس سے اجازت لئے بغیر اسکے مال سے نفع اٹھائے گا تو میں اُس شخص کے اس طرح کے فعل کو پسند نہیں رکھتا ہاں! جبکہ ان دونوں کے ما بین انبساط (بے تکلفی)ہو تو جائز ہے۔'' ''الفتاوی الھندیۃ'' ، کتاب الکراھیۃ ، الباب الحادي عشر، ج۵، ص۳۴۱.