Brailvi Books

فضائلِ دعا
292 - 322
    اس دوسرے طریقہ سوال میں جب کہ خود ضرورتِ شرعیہ نہ ہو، حضرات عُلِیّہ یہی صورت ملحوظ رکھتے ہونگے کہ سوال کیا اور خلق سے چھپ کر خفیہ تصدق فرما دیا، مساکین کی حاجت روائی ہوئی، مخلوق نے تصدق کی فضیلت پائی، خود علاوہ تصدق اس تکبر شکنی کی دولت ملی۔
ھذا ما عندي، واللہ تعالٰی أعلم.(1))o
    تیسرا فائدہ: رعایتِ ادب کہ مال سب خدا کا ہے، خلق صرف وکیل ونگہبان ہے، خود بادشاہ سے حقیر چیز مانگنا اور گاہ بیگاہ (وقت بے وقت) اسی سے ہر قسم کا سوال کرنا زیب نہیں دیتا۔

    یحییٰ رازی نے اپنی ماں سے کچھ مانگا، کہا: خدا سے مانگ، فرمایا: اے مادرِ مہربان! مجھے شرم آتی ہے کہ ایسی چیز خدا تعالیٰ سے مانگوں اور جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ بھی خدائے تعالیٰ کا جانتا ہوں، یعنی:یہ سوال بھی در حقیقت خدا سے ہے، مگر ایسی حقیر چیز بلا واسطہ اس سے مانگنا نہیں چاہتا۔
واللہ تعالٰی أعلم۔
 (اور اللہ تعالیٰ سب سے بہتر جانتے والاہے)۔

    قال الرضاء: اس کے متعلق بعض کلام مسئلہ ترکِ دعا میں مَسطُور(2)اور اصل یہ ہے کہ جب حاجت متحقَّق اور طُرُقِ کسب کی وہ حالت کہ اوپر مذکور، اور ترکِ مطلق سبب کی اجازت نہیں تو
رُجُوْع إِلَی السُّؤَال
آپ ہی ضرور۔ مگر لازم ہے کہ خَلق پر نظرِ ظاہر ہو اور حقیقتِ نظر مالک ومُعطِیِ حقیقی عزوجل پر مقصور، ایسی حالت میں محض ابطالِ اسباب چاہ کر یا اللہ! ٹکڑا دے، یا اللہ! پیسہ دے، کہتا رہنا آپ ہی ادبِ شرع سے دور،
ھذا ما ظہر لي،
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1 یہ کلام میرے نزدیک ہے اور سب سے بہتر علم تو اللہ عزوجل کوہے ۔

2 اس کلام کو جاننے کیلئے فصل ہفتم کے مسئلہ ۵نیز فصل دہم کا مطالعہ فرمائیے۔
Flag Counter