دوسرا فائدہ: اپنی قدر وقیمت پر متنبہ ہونا۔ جب شبلی مرید ہوئے خواجہ جنیدرحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا: ''اے ابو بکر!تو ملک شام کا امیر الامراء تھا، جب تک بازار میں بھیک نہ مانگے گا دماغ تیرا نَخْوَت سے خالی نہ ہوگا (یعنی تیرے دماغ سے گھمنڈ وغرور نہ جائے گا)اور اپنی قدر وقیمت نہ جانے گا۔''ابتداء ابتداء میں تو لوگوں نے رئیس جان کر بہت کچھ دیا آخر رفتہ رفتہ ہر روز بازار انکا سُست ہوتا جاتا، ایک سال کے بعد یہ نوبت پہنچی کہ صبح سے شام تک پھرتے کوئی کچھ نہ دیتا، پیر سے حال عرض کی، فرمایا:قدر تیری یہ ہے کہ کوئی تجھے کوڑی کو نہیں پوچھتا۔(1)
قال الرضاء: سوال بے ضرورتِ شرعیہ اپنے لئے حرام ہے اور مسکین وحاجت مند مسلمانوں کے لئے مانگنا حلال بلکہ سنت سے ثابت ہے۔ اور جب مسؤلین پر ظاہر نہ کیا جائے کہ سوال دوسروں کے لیے ہے تو ضرور وہ اپنے ہی لیے سوال جانیں گے اور جو حالت نفس پر وہاں طاری ہوتی یہاں بھی ہوگی۔ خصوصا ًبازار میں دکان دکان گدیہ گروں کی طرح مانگتے پھرنا، خصوصاً جب کہ روزانہ ایک مدت دراز تک ہو کہ اب تو اگر یہ کہہ کر بھی ہوتا کہ اُوروں کے لیے مانگتے ہیں جب بھی شُدہ شُدہ (آہستہ آہستہ) وہی نوبت پہنچتی کہ کوئی کچھ نہ دیتا، مگر اس کے عدم ذکر میں کسرِ نَخْوَت بدرجہ اَتم ہے۔(2)