''بیشک بدن میں ایک گوشت پارہ ہے وہ سنور جائے تو سب بدن بن جائے اور جب وہ بگڑ جائے تو سب بدن خراب ہو جائے، سنتے ہو! وہ دل ہے۔''(1)
خلق کی کثرتِ مخالَطت (یعنی:لوگوں سے زیادہ میل جول وغیرہ)اعمالِ ظاہر میں بھی بہت مُخِل ہوتی ہے، ہزاروں گناہ جسمانی تو وہ ہیں کہ تنہائی میں ہو ہی نہیں سکتے اور جو ہو سکتے ہیں وہ بھی بحال مخالَطت زائد ہوتے ہیں اور صحبتِ عوام قلب کے لئے تو بہت ہی خطرناک ہے، مگر بضرورتِ شرعیہ جیسے مفتیئ شرع وقاضیئ حق ومدرِّسِ دین وواعظِ ہُدیٰ اور غیر مالدار کے طُرُقِ کسب (یعنی:غیر مالدار کا معاشی ضروریات کے مختلف طریقے وذرائع اپنانا)تجارت ، زراعت ، نوکری ، مزدوری ہیں اوران سب میں مخالَطت ناس کی حاجت اور اِصلاحِ نفس کے لئے عدمِ فراغت ہے اور تصحیحِ فرائض واجتنابِ مُحَرَّمات اَہم ضروریاتِ دینیّہ سے ہے اور ضرورتِ دینی کے وقت سوال حلال، یہ معنی ہیں انکے اذن اور حضرت مُصَنِّف عَلَّام قُدِّسَ سِرُّہ، کے ارشاد ریاضت نفس کے، نہ وہ جو آج کل کے مڑچرے جوگیوں (شعبدہ بازوں)نے اختیار کیا ہے کہ اچھے خاصے جوان تندرست، اور بھیک مانگنے کا پیشہ اور اصلاحِ قلب درکار، اصلاح ظاہر سے برکنار اور منع کیجئے تو شرع مطہر سے معارضے کو تیار، کہ بھیک مانگنا بھی