Brailvi Books

فضائلِ دعا
289 - 322
برتوکل پائے اشتر را نبید(1)

    عالَم اسباب میں رہ کر ترکِ اسبا ب گویا اِبطال حکمتِ الٰہیہ ہے۔
 (کَبَاسِطِ کَفَّیۡہِ اِلَی الْمَآءِ لِیَبْلُغَ فَاہُ وَمَا ہُوَ بِبَالِغِہٖ ؕ)
    ''جیسے کوئی ہتھیلیاں پانی کی طرف پھیلائے ہوئے کہ وہ اس کے منہ میں پہنچ جائے اور وہ پہنچنے والا نہیں۔''
 (پ۱۳، الرعد: ۱۴)
    سیدنا بایزید بِسطامی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی کو منع فرمایا، رہا اذنِ سوال۔ 

    أقول:اللہ عزوجل کے جس طرح کچھ فرائض ومُحَرَّمات ہیں جیسے:نماز وزِنا، ویسے ہی قلب پر بھی ہیں، اور ان کی فرضیت وحرمت اسی طرح یقینی قطعی ضروریاتِ دین سے ہے جیسے صبر وشکر وتواضع واخلاص کی فرضیت، جزع (بے صبری اور واویلا پن)وکفران وتکبر ورِیاکی حرمت۔ 

    عوام اگر بہت متوجہ تقوی وطاعت ہوئے انہیں فرائض ومحرمات بدنیہ پر قناعت کرتے اور فرائض ومحرمات قلبیّہ سے اصلا ًکام نہیں رکھتے، پڑھیں نماز اور کریں تکبر اور رَب عزوجل فرمائے:
  اَلَیۡسَ فِیۡ جَہَنَّمَ مَثْوًی لِّلْمُتَکَبِّرِیۡنَ)
    ''کیا جہنم میں ٹھکانا نہیں متکبروں کا۔''
 (پ۲۴، الزمر: ۶۰)
    اربابِ قلب بشدّت متوجہ بقلب ہوتے ہیں، ظاہری باطنی دونوں فرائض بجا لاتے اور دونوں کے تمام محرَّمات سے احتراز فرماتے ہیں، پھر ظاہری صلاح سہل ہے (یعنی:اعمال ظاہر ی کو درست کر لینا آسان ہے)اور باطنی اس سے بہت مشکل کہ جوارح (بدن
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

1یعنی اونٹ کے پاؤں پر توکل نہ کرو۔
Flag Counter