ولہٰذا جب ایک صحابی نے عرض کی:یا رسول اللہ! اپنا ناقہ چھوڑ دوں اور خدا پر توکل کروں؟ فرمایا: بلکہ
''اس کا پاؤں باندھ دے اور توکل کر'' یعنی: خدا پر بھروسہ کر۔
رواہ البیھقي في ''الشعب'' بسند جیّد عن عمرو بن أُمیّۃ الضَّمْرِيِّ والترمذي بلفظ:((اعقلھا وتوکّل)) عن أنس رضي اللہ تعالٰی عنھما. (2)
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
1 یعنی: توکل کے معنی یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کر کے بیٹھا رہے اور ہاتھ پیر دھرے کہے: اللہ تعالیٰ ہر شئے پر قدرت رکھتا ہے چنانچہ وہ مجھے بغیر کوشش کے بھی روزی دیگا۔بلا شبہ اللہ عزوجل قادرِ مطلق ہے اور ایسا کرنا اس کیلئے کچھ مشکل نہیں مگر بندے کی مذکورہ سوچ کے پیش نظر کوشش نہ کرتے ہوئے بیٹھ جانا، اپنے رب کریم عزوجل کی مشیت کے خلاف ہے کہ عالَم ِاسباب یعنی: دنیا میں رہ کر ترک اسباب گویا حکمت الٰہیہ کو باطل کرنے کے مترادف ہے۔ ہاں! توکل کے معنی یہ ہیں کہ ان اسباب کو اصل نہ سمجھے اور نہ ہی ان پر بھروسہ کرے بلکہ اسی پر بھروسہ کرے کہ جو اِن اسباب کا پیدا کرنے والا اور مسبِّبِ حقیقی ہے۔
2 اس حدیث مبارکہ کو بیہقی نے'' شعب الایمان'' میں حضرت عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے سندِ جید کے ساتھ روایت کیا اور ترمذی نے ''اعقلھا وتوکّل''کے الفاظ کے ساتھ اس کو حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا۔
''شعب الإیمان''، باب التوکل والتسلیم، الحدیث: ۱۲۱۱، ج۲، ص۸۰.
و''سنن الترمذي''، کتاب الزہد، الحدیث: ۲۵۲۵، ج۴، ص۲۳۲.